Jasarat News:
2026-07-24@03:21:51 GMT

وادی تیراہ: برفباری، نقل مکانی، سیاست اور ریاستی امتحان

اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وادی تیراہ اس وقت صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں رہی بلکہ یہ پاکستان کے اجتماعی ضمیر کی ایک لرزتی ہوئی تصویر بن چکی ہے۔ برف کی سفید چادر نے اس کے پہاڑوں، راستوں اور گھروں کو ڈھانپ رکھا ہے مگر اس سفیدی کے نیچے چھپی ہوئی کہانی بے سروسامانی کی حالت میں نقل مکانی، خو ف ویاس، منافقت پر مبنی سیاست، بے یقینی اور ریاستی آزمائش کی عملی تصویر ہے۔ تیراہ کی خاموش پہاڑیاں آج گواہ ہیں کہ قدرت کی سردی سے زیادہ انسان کی بے توجہی، بے حسی اور پالیسی کی سرد مہری جان لیوا ثابت ہو رہی ہے۔ یہ بحران صرف شدید برفباری یا موسمی شدت کا نتیجہ نہیں۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جس میں موسم، سیکورٹی، سیاست اور انسانی بے بسی ایک دوسرے میں گھل مل کر ایک دردناک داستان تخلیق کر رہے ہیں۔ تیراہ کے عوام کے لیے یہ دن صرف سرد نہیں بلکہ اعتماد کے منجمد ہونے کے دن ہیں۔ وہ لوگ جو نسلوں سے ان پہاڑوں میں بستے آئے تھے، آج اپنے ہی گھروں سے بے دخل ہیں اور یہ سوال کرتے پھر رہے ہیں کہ آیا ان کی زمین اب بھی ان کی ہے یا نہیں۔ ریاستی بیانات اس بحران میں دھند کی طرح چھائے ہوئے ہیں۔ وفاق کہتا ہے کہ انخلا رضاکارانہ ہے، کوئی بڑا آپریشن نہیں ہو رہا، کوئی جبر نہیں۔ مگر زمینی حقیقت کچھ اور کہانی سناتی ہے۔ جب لوگ سرد راتوں میں اپنے بچوں کو اٹھائے، لرزتے ہاتھوں سے دروازے بند کر کے نکلتے ہیں، جب وہ اپنے آبا و اجداد کی قبروں کو پیچھے چھوڑتے ہیں، تو یہ ہجرت شوق کی نہیں ہوتی یہ خوف کی ہجرت ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ نقل مکانی واقعی رضاکارانہ ہے، تو پھر چار ارب روپے کے امدادی پیکیج کیوں ترتیب دیے گئے؟ اگر سب کچھ معمول کے مطابق ہے، تو پھر اتنی بڑی انتظامی مشینری کیوں حرکت میں آئی؟ اور اگر حالات غیر معمولی ہیں، تو پھر سچ کو دھند میں کیوں چھپایا جا رہا ہے؟ یہ سوال محض سیاسی نہیں، یہ سوال ریاست کی نیت، ترجیحات اور سچائی پر اٹھتا ہے۔

گزشتہ جمعے کے روز تیراہ سے نکلنے والے قافلے برفانی طوفان میں پھنس گئے۔ سفید برفانی طوفان نے ان راستوں کو نگل لیا جن پر امید کی آخری کرنیں سفر کر رہی تھیں۔ منفی درجہ ٔ حرارت میں ٹھٹھرتے بچے، بیمار بوڑھے اور بے بس مائیں یہ سب کسی افسانے کے کردار نہیں تھے بلکہ زندہ انسان تھے، جن کی سانسیں برف کے ساتھ جم رہی تھیں۔ یہ بجا ہے کہ ریسکیو اہلکاروں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر لوگوں کو بچایا، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ریاست کا کردار صرف آفت کے بعد مدد تک محدود رہے گا؟ کیا اس بحران کو روکا نہیں جا سکتا تھا؟ کیا بہتر منصوبہ بندی سے یہ قافلے برف کی قید میں جانے سے بچ نہیں سکتے تھے؟ تیراہ کے پہاڑوں پر تین سے چار فٹ برف جمی ہوئی ہے، مگر اصل برف لوگوں کے دلوں میں جم چکی ہے، برفِ خوف، برفِ بے یقینی اور برفِ محرومی۔ راستے بند ہیں، بازار ویران اور سنسان ہیں، گھروں میں چولہے بجھ چکے ہیں اور کئی بچوں نے چوبیس سے چھتیس گھنٹے تک روٹی کا ایک نوالہ تک نہیں چکھا۔ سردی ان کے جسموں کو ہی نہیں، ان کے مستقبل کو بھی منجمد کر رہی ہے۔ یہ سب صرف اعداد وشمار نہیں۔ یہ وہ آنکھیں ہیں جو امید کے لیے ترس رہی ہیں، وہ لرزتے ہوئے ہاتھ ہیں جو مدد کے لیے اٹھے ہوئے ہیں اور وہ سوال ہیں جن کا جواب کسی فائل میں دستیاب نہیں ہے۔ اسی دوران سیاست نے اس انسانی سانحے کو اپنا میدان بنا لیا ہے۔ وفاقی وزراء ببانگ دہل کہتے ہیں کہ کوئی فوجی آپریشن نہیں ہورہا ہے، سب محض افواہ ہے۔ صوبائی حکومت کہتی ہے کہ حقیقت چھپائی جا رہی ہے اور عوام کو سچ سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ دونوں طرف سیاسی بیانات اور ایک دوسرے کو زچ کرنے اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ پر مبنی گولہ باری جاری ہے، مگر تیراہ کے بچے اب بھی سردی میں ٹھٹھر رہے ہیں اور تیراہ کی مائیں، بہنیں اور بوڑھے وجود اب بھی مدد کی راہ دیکھ رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی کا مؤقف ہے کہ دیرپا امن صرف طاقت سے نہیں آتا بلکہ اعتماد، شفافیت اور عوامی شمولیت سے جنم لیتا ہے۔ یہ بات محض سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت کی بازگشت ہے۔ اگر ہر چند سال بعد کسی خطے کو فوجی کارروائی، نقل مکانی اور عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو صاف ظاہر ہے کہ مسئلہ صرف سیکورٹی کا نہیں ہے بلکہ بنیادی مسئلہ پالیسی کی ناکامی کا ہے۔ قبائلی عمائدین کی آواز بھی اب گونج رہی ہے، ان کے صبر کا پیمانہ بھی اب لبریز ہوتا جارہا ہے۔ جمرود شاہ کس میں ہونے والے قبائلی جرگے میں بزرگوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر فوجی آپریشن نہیں ہو رہا تو پھر عوام کیوں ہجرت پر مجبور ہیں؟ اگر حالات معمول کے مطابق ہیں تو پھر یہ آنسو، یہ لاشیں، یہ بھوکے بچے کس حقیقت کی گواہی دے رہے ہیں؟

اصل سانحہ یہ ہے کہ اس تمام بحران میں سب سے کم بلکہ نہ ہونے کے برابر سنی جانے والی آواز عام شہری کی ہے۔ وہ شہری جو نہ وفاق کی مکارانہ سیاست کی باریکیوں کو سمجھتا ہے اور نہ ہی صوبے کی ناقص حکمت عملی اور انتظامی نااہلی کے عیوب سے واقف ہے وہ صرف اتنا جانتا ہے کہ اس کا گھر سرد اور اداس ہے، اس کے بچے بھوکے اور سہمے ہوئے ہیں، اس کے بوڑھے ماں باپ کے جھریوں بھرے چہروں اور خمیدہ کمر وں کو سہارے کی ضرورت ہے، انہی بھیانک تصورات میں اس کا مستقبل چاروں طرف چھائے ہوئے دھند میں کہیں گم ہو چکا ہے۔ ہمیں یہ تلخ حقیقت نہیں بھولنی چاہیے کہ تیراہ کے لوگ صرف گھر بارنہیں چھوڑ رہے، وہ اپنے خواب، اپنی یادیں، اپنی تاریخ اور اپنی شناخت بھی پیچھے چھوڑ رہے ہیں۔ ہر بند دروازے کے پیچھے ایک کہانی دفن ہے، ہر ویران صحن میں کسی ہنسی کی بازگشت قید ہے اور ہر خالی گھر ایک سوال بن چکا ہے: کیا ہم واقعی اس ملک کے شہری ہیں؟ یہ بحران پاکستان کے لیے صرف ایک انتظامی چیلنج نہیں بلکہ ایک اخلاقی امتحان بھی ہے۔ یہ امتحان اس بات کا ہے کہ کیا ریاست سیاست سے بالاتر ہو کر انسان کو ترجیح دیتی ہے، یا انسان کو سیاست کی بھینٹ چڑھنے دیتی ہے؟

طاقتور مراکز کے کار پردازوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر فوری، شفاف اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو تیراہ کا یہ بحران ایک ایسا زخم بن سکتا ہے جو پھربرسوں تک نہیں بھرے گا۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ زمینی حقائق کو تسلیم کیا جائے، متاثرین کو گلے سے لگاکر فوری سہارا دیا جائے، سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھا جائے اور مقامی قبائل کی مشاورت سے ایک پائیدار، انسانی اور منصفانہ حکمتِ عملی تشکیل دی جائے۔ کیونکہ جب برف میں ٹھٹھرتا ہوا کوئی معصوم بچہ یہ سوال کرتا ہے کہ ’’ہمارا قصور کیا ہے؟‘‘ تو یہ سوال صرف وادی تیراہ کا نہیں رہتا بلکہ یہ سوال پوری قوم کے ضمیر پر ایک ایسا دستک بن جاتا ہے جو اس وقت تک ان کا پیچھا کرتا رہے گا جب تک بے یار ومددگار بنائے جانے والے وادی تیراہ کے ان ہزاروں خاندانوں کی باعزت واپسی یقینی نہیں بنائی جاتی۔

ڈاکٹر عالمگیر آفریدی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وادی تیراہ نقل مکانی تیراہ کے نہیں ہو رہے ہیں یہ سوال ہیں اور کے لیے تو پھر رہی ہے رہا ہے

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف