Jasarat News:
2026-07-24@04:04:54 GMT

آٹے کا بحران، بیروزگاری، مہنگائی کا معاشرتی اثر

اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

آٹا محض ایک خوراک نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں زندگی کی بنیادی علامت ہے، وہ شے جس کے گرد غریب کی پوری معیشت، امید اور بقا گھومتی ہے۔ جب روٹی مہنگی ہو جائے تو یہ صرف قیمتوں کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ ٹوٹنے لگتا ہے۔ آج ملک بھر میں آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اسی ٹوٹتے ہوئے اعتماد کی گواہی دے رہی ہیں۔ ایک طرف حکومتی بیانات میں مہنگائی میں کمی کے دعوے سنائی دیتے ہیں، تو دوسری طرف عام آدمی کے چولہے ٹھنڈے پڑتے جا رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ آٹا مہنگا کیوں ہوا، اصل سوال یہ ہے کہ ریاست اپنے کمزور شہریوں کے ساتھ کہاں کھڑی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پشاور اور بنوں میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت 3 ہزار روپے تک ہے۔ اسلام آباد میں 2960 روپے، راولپنڈی میں 2933، کوئٹہ 2850 اور حیدرآباد میں آٹے کا 20 کلو کا تھیلا2760 روپے تک میں فروخت ہو ر ہا ہے۔ کراچی 2700 روپے اور سرگودھا میں 2667 روپے تک ہوگیا۔ فیصل آباد، خضدار، سکھر اور ملتان میں آٹے کا20 کلو کا تھیلا2600 روپے تک ہے۔ سیالکوٹ 2540 اور بہاولپور میں 2506 روپے تک میں فروخت ہو ر ہا ہے۔ لاڑکانہ 2500 اور گوجرانوالہ میں 2467 روپے تک ہے۔ لاہور میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت سب سے کم 1850 روپے تک ہے۔ آٹے کی قیمتوں میں جو بڑا فرق ہم دیکھ رہے ہیں، وہ صرف طلب اور رسد کے بدلاؤ کی وجہ سے نہیں ہے۔ اس کا اصل سبب حکومت یا متعلقہ اداروں کا ناقص انتظام، کمزور نگرانی، اور پالیسیوں کی ناکامی ہے۔ یعنی، قیمتیں بڑھنے یا کم ہونے میں حکومتی کارکردگی اور نظام کی کمزوری کا بھی بڑا کردار ہے۔ یہ فرق صرف عددی نہیں بلکہ ایک گہری معاشرتی ناانصافی کی علامت ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ہی ملک میں، ایک ہی فصل سے تیار ہونے والا آٹا مختلف شہروں میں اتنے مختلف نرخوں پر کیوں فروخت ہو رہا ہے۔ کیا یہ ذخیرہ اندوزی نہیں، کیا یہ ناجائز منافع خوری نہیں، یا پھر حکومتی نگرانی کا فقدان ہے؟ گندم کی پیداوار سے لے کر اس کی خریداری، ذخیرہ، ترسیل اور آٹے کی تیاری تک پورا نظام بدانتظامی کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ کسان کو گندم کی مناسب قیمت نہیں ملتی، فلور مل مالکان منافع سمیٹتے ہیں، بیوپاری ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں اور آخرکار بوجھ غریب صارف کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔

یہ بحران کسی ایک شہر یا چند علاقوں تک محدود نہیں بلکہ ملک کے بیش تر شہری اور دیہی خطوں میں محسوس کیا جا رہا ہے۔ عالمی بینک اور اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی ادارے جیسے بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق پاکستان کی ایک بڑی آبادی غربت کی لکیر کے قریب یا اس سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، اور ایسے حالات میں آٹے جیسی بنیادی ضرورت کی قیمت میں اضافہ ان طبقات کے لیے خوراک تک رسائی کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔ اسی طرح پاکستان بیورو آف شماریات کے لیبر فورس سروے کے مطابق ملک میں بیروزگاری میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، خصوصاً شہری مزدور طبقے اور نوجوانوں میں، جس نے عام آدمی کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

یہ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو جاتی ہے جب اسے مجموعی معاشی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے۔ مہنگائی پہلے ہی عوام کی کمر توڑ چکی ہے، روزگار کے مواقع محدود ہو رہے ہیں، توانائی کے بحران اور گیس و بجلی کی لوڈشیڈنگ نے روزمرہ زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ ایسے میں آٹے جیسی بنیادی ضرورت کا مہنگا ہونا غریب کے لیے براہِ راست زندگی اور بقا کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ایک مزدور، ایک دیہاڑی دار، ایک بیوہ یا یتیم خاندان کے لیے آٹا مہنگا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بچوں کی تعلیم، علاج اور دیگر بنیادی ضروریات قربان کر دی جائیں۔ حکومت کی جانب سے مہنگائی میں کمی کے دعوے زمینی حقائق سے متصادم دکھائی دیتے ہیں۔ اگر واقعی مہنگائی کم ہو رہی ہے تو پھر آٹا، دال، چاول، تیل اور دیگر بنیادی اشیائے خورو نوش عام آدمی کی پہنچ سے کیوں دور ہوتی جا رہی ہیں؟

آٹے کا یہ بحران محض معاشی نہیں بلکہ حکمرانی کا بحران ہے۔ اگر ریاست چاہے تو گندم کی خریداری کو شفاف بنا سکتی ہے، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف مؤثر کارروائی کر سکتی ہے، فلور ملوں کی کڑی نگرانی کر سکتی ہے اور قیمتوں کو ایک معقول حد میں رکھ سکتی ہے۔ لیکن جب ایسا نہیں ہوتا تو یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ یہ محض نااہلی ہے یا دانستہ چشم پوشی۔ ایک ایسا ملک جو زرعی وسائل سے مالا مال ہو، جہاں گندم کی کاشت وسیع پیمانے پر ہوتی ہو، وہاں آٹے کا بحران ہونا واقعی لمحہ ٔ فکر ہے۔

اس صورتحال کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ غریب کی آواز کہیں سنی نہیں جاتی۔ ریاست کی بنیادی ذمے داری ہے کہ وہ کمزور طبقے کو تحفظ دے، نہ کہ اسے منڈی کے رحم و کرم پر چھوڑ دے۔ آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے ذمے دار عناصر کا احتساب ہونا چاہیے، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کو مؤثر طور پر روکنا چاہیے اور سبسڈی کا نظام واقعی مستحق افراد تک پہنچنا چاہیے۔ حکمرانوں کو اپنی پالیسیوں پر سنجیدگی سے نظر ثانی کرنا ہوگی، زمینی حقائق کو تسلیم کرنا ہوگا اور یہ ماننا ہوگا کہ عوام کو درپیش مسائل محض اعداد و شمار سے حل نہیں ہوتے۔ آٹے کی قیمتوں میں کمی کے لیے فوری، عملی اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں، کیونکہ جب تک روٹی سستی نہیں ہوگی، زندگی مہنگی ہی رہے گی، اور مہنگی زندگی غریب کے لیے ناقابل ِ برداشت ہوتی ہے۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آٹا صرف خوراک نہیں بلکہ ریاست کی ذمے داری کا پیمانہ ہے۔ جس دن روٹی ہر شہری کی دسترس میں ہوگی، اسی دن کہا جا سکے گا کہ حکومت نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ بصورتِ دیگر آٹے کا یہ بحران ایک سوال بن کر تاریخ میں درج ہو جائے گا اور یہ سوال حکمرانوں کا پیچھا کرتا رہے گا کہ جس ملک میں روٹی میسر نہ ہو، وہاں اقتدار کا اخلاقی جواز کیا رہ جاتا ہے۔

عجب رسم ہے چارہ گروں کی محفل میں
لگا کے زخم نمک سے مساج کرتے ہیں
غریب شہر ترستا ہے اک نوالے کو
امیر شہر کے کتے بھی راج کرتے ہیں

ضروری ہے کہ حکومت گندم کی خریداری سے لے کر آٹے کی فروخت تک پورے نظام کو شفاف بنائے، فلور ملوں اور ذخیرہ اندوزوں کی کڑی نگرانی کرے اور ناجائز منافع خوری کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کو یقینی بنائے۔ سرکاری نرخ ناموں پر حقیقی عملدرآمد ہو، نہ کہ صرف کاغذی اعلان۔

پروفیسر شاداب احمد صدیقی سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: روپے تک ہے نہیں بلکہ میں ا ٹے جاتا ہے سکتی ہے کی قیمت گندم کی ا ٹے کی ا ٹے کا کے لیے

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف