عدالت عظمیٰ کا ایس ایچ او کیلیے ’’بخدمت جناب‘‘ نہ لکھنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد ( نمائندہ جسارت) عدالت عظمیٰ نے پولیس نظام میںدرخواستوں میں ایس ایچ او کو ’’بخدمت جناب‘‘ لکھنے پر پابندی عاید کر دی۔ عدالت عظمیٰ نے پولیس سسٹم میں انگریز دورکا طرز تحریرختم کرنے کیلیے اہم فیصلہ کیا ہے، آئندہ ایف آئی آر میں تھانیدارکیلیے بخدمت جناب کا لقب نہ لکھنے کا حکم دیدیا، ایف آئی آردرج کروانے کیلیے فریادی کا لفظ استعمال کرنیکی بھی سختی سے ممانعت ہوگی، جرم کی اطلاع ملنے کے بعد ایف آئی کے اندراج میں تاخیر پر پولیس کے خلاف سخت کارروائی کی واررننگ دیدی۔ عدالت نے قراردیاکہ تھانیدار عوام کا خادم ہے،عوام اس کے نوکرنہیں،اس لیے ایف آئی آرمیں بخدمت جناب کے بجائے صرف ’’جناب ایس ایچ او‘‘ لکھا جائیگا،پولیس کے نظام میں غلامانہ زبان کا خاتمہ ہونا چاہیے، فیصلے کے مطابق ایف آئی آر درج کرانے والا شہری اطلاع دہندہ ہو گا،جبکہ کمپلیننٹ کی اصطلاح صرف نجی فوجداری شکایت تک محدود رہے گی، عدالت نے پولیس کی کارروائی میں فریادی کا لفظ ممنوع قرار دیتے ہوئے کہا اس سے رحم مانگنے کا تاثر ملتا ہے حق حاصل کرنے کا نہیں۔ فیصلے میں کہاگیاکہ ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیرناقابل قبول ہے،کیونکہ اس سے شواہدضائع ہونے کا خدشہ ہوتا ہے، پولیس کی جانب سے ایف آئی آردرج کرنے میں تاخیرکی صورت میں پینل کوڈ کے تحت مقدمہ بھی بن سکتا ہے، اہم فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریرکیا، جس میں ٹنڈو غلام علی میں قتل کیس کے مجرم کی سزا کے خلاف اپیل کو بھی مسترد کر دیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایف ا ئی ا
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔