جاوید ہاشمی کے گھر پر پولیس گردی قابل مذمت ہے، وقت ضرور بدلے گا، علامہ راجہ ناصر عباس
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کا کہنا ہے کہ یاد رکھیں! مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالبؑ کا اٹل اور ابدی فرمان ہے کہ حکومت کفر سے تو باقی رہ سکتی ہے مگر ظلم سے نہیں، جب ریاست خود جبر، انتقام اور ناانصافی کی علامت بن جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کے زوال کا آغاز ہو چکا ہے، بزرگ، بیمار اور باوقار سیاسی شخصیت کے گھر پر دھاوا بولنا طاقت کی علامت نہیں بلکہ بوکھلاہٹ، خوف اور اخلاقی شکست کا کھلا اعلان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر، ممتاز عالم دین علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ بزرگ سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی کے گھر پر پنجاب کی فارم 47 کی پیداوار فسطائی حکومت اور ان کے ہینڈلرز کی جانب سے کی گئی پولیس گردی، چادر اور چار دیواری کی پامالی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ایک سیاسی مخالف کے گھر پر ن لیگ کی فسطائی حکومت کی سرپرستی میں کیا گیا وحشیانہ حملہ ہے، جو محض ایک فرد یا خاندان پر نہیں، بلکہ آئینِ پاکستان، قانون کی حکمرانی اور جمہوری اقدار پر براہِ راست وار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ موجودہ حکمران ٹولہ اخلاقی، سیاسی اور آئینی طور پر مکمل دیوالیہ ہو چکا ہے۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ یاد رکھیں! مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالبؑ کا اٹل اور ابدی فرمان ہے کہ حکومت کفر سے تو باقی رہ سکتی ہے مگر ظلم سے نہیں، جب ریاست خود جبر، انتقام اور ناانصافی کی علامت بن جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کے زوال کا آغاز ہو چکا ہے، بزرگ، بیمار اور باوقار سیاسی شخصیت کے گھر پر دھاوا بولنا طاقت کی علامت نہیں بلکہ بوکھلاہٹ، خوف اور اخلاقی شکست کا کھلا اعلان ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فسطائیت، یہ جبر اور یہ دہشتگردی زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کے ایوان ہمیشہ ملبے کا ڈھیر بنے ہیں۔ وقت کا پہیہ گھومنے میں دیر نہیں لگتی، اور جب یہ گھومتا ہے تو نہ فارم 47 کام آتا ہے، نہ ہینڈلرز بچا پاتے ہیں اور نہ ہی اقتدار کا نشہ باقی رہتا ہے۔ عوام سب کچھ دیکھ رہے ہیں حساب ہوگا، اور ضرور ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے گھر پر نے کہا کہ کی علامت
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔