سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کا کہنا ہے کہ ‏یاد رکھیں! مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالبؑ کا اٹل اور ابدی فرمان ہے کہ حکومت کفر سے تو باقی رہ سکتی ہے مگر ظلم سے نہیں، جب ریاست خود جبر، انتقام اور ناانصافی کی علامت بن جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کے زوال کا آغاز ہو چکا ہے، بزرگ، بیمار اور باوقار سیاسی شخصیت کے گھر پر دھاوا  بولنا طاقت کی علامت نہیں بلکہ بوکھلاہٹ، خوف اور اخلاقی شکست کا کھلا اعلان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر، ممتاز عالم دین علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ ‏بزرگ سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی کے گھر پر پنجاب کی فارم 47 کی پیداوار فسطائی حکومت اور ان کے ہینڈلرز کی جانب سے کی گئی پولیس گردی، چادر اور چار دیواری کی پامالی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ایک سیاسی مخالف کے گھر پر ن لیگ کی فسطائی حکومت کی سرپرستی میں کیا گیا وحشیانہ حملہ ہے، جو محض ایک فرد یا خاندان پر نہیں، بلکہ آئینِ پاکستان، قانون کی حکمرانی اور جمہوری اقدار پر براہِ راست وار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ موجودہ حکمران ٹولہ اخلاقی، سیاسی اور آئینی طور پر مکمل دیوالیہ ہو چکا ہے۔

علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ‏یاد رکھیں! مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالبؑ کا اٹل اور ابدی فرمان ہے کہ حکومت کفر سے تو باقی رہ سکتی ہے مگر ظلم سے نہیں، جب ریاست خود جبر، انتقام اور ناانصافی کی علامت بن جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کے زوال کا آغاز ہو چکا ہے، بزرگ، بیمار اور باوقار سیاسی شخصیت کے گھر پر دھاوا  بولنا طاقت کی علامت نہیں بلکہ بوکھلاہٹ، خوف اور اخلاقی شکست کا کھلا اعلان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‏یہ فسطائیت، یہ جبر اور یہ دہشتگردی زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کے ایوان ہمیشہ ملبے کا ڈھیر بنے ہیں۔ وقت کا پہیہ گھومنے میں دیر نہیں لگتی، اور جب یہ گھومتا ہے تو نہ فارم 47 کام آتا ہے، نہ ہینڈلرز بچا پاتے ہیں اور نہ ہی اقتدار کا نشہ باقی رہتا ہے۔ عوام سب کچھ دیکھ رہے ہیں حساب ہوگا، اور ضرور ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے گھر پر نے کہا کہ کی علامت

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار