کشتواڑ حملے میں کم از کم چار بھارتی فوجی زخمی
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
فوجی آپریشن اور مقامی لوگوں کو درپیش مشکلات کے بارے میں سوشل میڈیا پر معلومات شیئر کرنے سے روکنے کے لیے حکام نے علاقے میں موبائل انٹرنیٹ سروسز کو بھی معطل کر رکھا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں آج ایک حملے میں کم از کم چار بھارتی فوجی زخمی ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق ضلع کے علاقے ڈولگام میں ایک بڑے فوجی آپریشن کے دوران ایک حملے میں کم از کم چار بھارتی فوجی زخمی ہوئے۔ بھارتی فوج اور پیراملٹری فورسز کے اہلکاروں نے 18 جنوری 2026ء کو ضلع کشتواڑ میں آپریشن شروع کیا تھا جو ابھی تک جاری ہے۔ فوجی آپریشن اور مقامی لوگوں کو درپیش مشکلات کے بارے میں سوشل میڈیا پر معلومات شیئر کرنے سے روکنے کے لیے حکام نے علاقے میں موبائل انٹرنیٹ سروسز کو بھی معطل کر رکھا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک