پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
اسلام آباد:
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا تاہم پیٹرول کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔
وزارت توانائی پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے اوگرا کی سفارشات کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کردیا ہے۔
وزارت توانائی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ نئی قیمتوں کا اطلاق یکم فروری سے اگلے 15 روز کے لیے ہوگا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان
نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 11 روپے 30 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے بعد فی لیٹر نئی قیمت ڈیزل کی نئی قیمت 268 روپے 38 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے جبکہ اس سے پہلے 257 روپے 8 پیسے تھی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 253 روپے 17 پیسے برقرار رکھی گئی ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فی لیٹر
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔