پہلے 7 ماہ ایف بی آر کا عبوری ریونیو شارٹ فال 344 ارب ہو گیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
اسلام آباد:
رواں مالی سال کے پہلے7 ماہ کے دوران ایف بی آر کا عبوری ریونیو شارٹ فال مجموعی طور پر344 ارب روپے، جنوری میں 16 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا رہا۔
ایف بی آر ذرائع کے مطابق پہلے سات ماہ کے دوران 7177 ارب روپے کی مجموعی وصولیاں ہوئیں، جو7521 ارب روپے کے مقررہ ہدف سے344 ارب روپے کم ہے، جنوری میں1031ارب روپے کے مقررہ ہدف کے مقابلہ میں1015ارب روپے کی عبوری وصولیاں ہوئیں، انکم ٹیکس کی مد میں وصولیاں ہدف سے زائد رہیں۔
اعدادوشمار کے مطابق جنوری میں انکم ٹیکس کی مد میں 481 ارب روپے وصول ہوئے جو452 ارب روپے کے ہدف سے 29 ارب زائد، سیلز ٹیکس کی مد میں 360 ارب روپے ملے جو387ارب روپے کے ہدف سے27 ارب روپے کم، کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں109ارب روپے موصول ہوئے جو 126ارب روپے کے ہدف سے17ارب روپے کم، فیڈرل ایکسائزڈیوٹی کی مد میں65 ارب روپے ملے جو65 ارب روپے کے مقررہ ہدف کے برابر ہیں۔
مزید پڑھیںایف بی آر کے اقدامات پر تاجروں کی ملک گیر شٹرڈاؤن ہڑتال اور ڈی چوک پر دھرنے کی دھمکی
چیئرمین ایف بی آر کا چھوٹے کاروبار کو پوائنٹ آف سیل کے نفاذ سے چھوٹ دینے کا اعلان
حکام نے کہا کہ چند روز میں وصولیوں کے حتمی اعدادوشمار ملنے سے محصولات میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکس دہندگان کو جنوری میں47 ارب جبکہ سات ماہ کے دوران340 ارب روپے کے ریفنڈز جاری ہوئے، گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 314 ارب روپے کے ریفنڈز جاری ہوئے تھے۔
حکام نے کہا کہ آئی ایم ایف کیساتھ مارچ 2026 تک 9917 ارب ریونیو جمع کرنے کا بنچ مارک طے ہے، اس لئے اگلے دوماہ میں مزید2765 ارب روپے سے زائد جمع کرنا ہونگے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ارب روپے کے کی مد میں ایف بی
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔