فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے جنوری 2026 کے دوران محصولات کی وصولی میں ماہ بہ ماہ بنیاد پر 16 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا ہے، جو گزشتہ چھ ماہ کی اوسط شرح نمو (10 سے 11 فیصد) سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ پیش رفت مالی سال 2026 کے باقی مہینوں کے لیے ایک واضح اور حوصلہ افزا سمت کی نشاندہی کرتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2026 میں ایف بی آر نے مجموعی طور پر 1,015 ارب روپے محصولات اکٹھے کیے، جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں یہ وصولی 873 ارب روپے تھی۔ یوں سالانہ بنیاد پر قابلِ ذکر بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔
اس ماہ کی ٹیکس کارکردگی متوازن اور اسٹریٹجک نوعیت کی حامل رہی۔ براہِ راست ٹیکسوں میں نمایاں اضافہ، بالواسطہ ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی میں معتدل نمو اور مجموعی طور پر بہتر نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایف بی آر کا اصلاحات پر مبنی ٹرانسفارمیشن پلان درست سمت میں گامزن ہے۔
انکم ٹیکس کی وصولیوں میں خاص طور پر نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی، جو گزشتہ سال کے 381 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 483 ارب روپے تک پہنچ گئیں۔ اس طرح انکم ٹیکس میں سالانہ بنیاد پر 26 فیصد کا شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اضافہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایف بی آر کی مؤثر انفورسمنٹ پالیسیوں اور زیرِ التواء مقدمات سے وصولیوں کے لیے کی گئی مربوط کوششوں کا نتیجہ ہے۔
جنوری میں سیلز ٹیکس کی وصولی 360 ارب روپے رہی، جو گزشتہ سال کے 322 ارب روپے کے مقابلے میں 12 فیصد زیادہ ہے۔ یہ بہتری بڑے پیمانے کی صنعتوں (LSM) میں بحالی اور سرگرمیوں میں اضافے کی عکاس ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک خوش آئند اشارہ ہے۔
مجموعی طور پر جنوری کے نتائج ایف بی آر کے ٹرانسفارمیشن پلان کی توثیق کرتے ہیں۔ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے بہتر استعمال، سخت مگر مؤثر انفورسمنٹ اقدامات اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی حکمت عملی کے باعث نہ صرف محصولات میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ٹیکس دہندگان کے اعتماد میں بھی بہتری آئی ہے۔ براہِ راست ٹیکسوں میں مضبوط کارکردگی رضاکارانہ ٹیکس کمپلائنس کے رجحان میں مثبت تبدیلی کی علامت ہے۔
مالی سال 2026 کے پہلے سات ماہ میں ایف بی آر نے مجموعی طور پر 7,176 ارب روپے محصولات جمع کیے، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ رقم 6,490 ارب روپے تھی۔ ایف بی آر کو امید ہے کہ بڑے پیمانے کی صنعتوں میں بحالی کا یہ رجحان برقرار رہے گا، جو رواں مالی سال کے محصولات کے اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ایف بی آر کی ٹیم آئندہ مہینوں میں بھی اسی جذبے اور عزم کے ساتھ کارکردگی کو برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ایف بی ا ر ارب روپے مالی سال کے لیے سال کے

پڑھیں:

پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے

سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔  اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ 

کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ 

سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔ 

او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا