بلوچستان میں آپریشن مکمل، دو دنوں میں خودکش حملہ آوروں سمیت فتنہ الہندوستان کے 133 دہشت گرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے دو روزہ کارروائیوں کے دوران فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 133 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فتنہ الہندوستان کے سرپرستی یافتہ دہشت گردوں نے بلوچستان میں امن و امان کی صورتِ حال خراب کرنے کی کوشش کی اور 31 جنوری کو صوبے کے مختلف شہروں میں دہشت گرد حملے کیے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، گوادر اور پسنی میں کارروائیاں کیں، جن کے نتیجے میں خواتین، بچوں اور مزدوروں سمیت 18 شہری شہید ہوئے۔
بیان میں کہا گیا کہ سکیورٹی فورسز نے بھرپور اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملوں کو ناکام بنایا اور تین خودکش بمباروں سمیت 92 دہشت گردوں کو ہلاک کیا، جس کے بعد دو دنوں میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 133 ہو گئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کلیئرنس آپریشن کے دوران پاک فوج کے 15 جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ یہ حملے پاکستان سے باہر بیٹھے دہشت گرد سرغنوں کی ہدایات پر کیے گئے، جبکہ منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور معاونین کو ہر صورت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔