ایپسٹین فائلز میں مودی کا نام سامنے آنے پر کانگریس کی تنقید، حکومت کی سخت تردید
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
امریکا کی وزارتِ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی جیفری ایپسٹین سے متعلق تازہ دستاویزات میں ایک ای میل میں بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کا نام سامنے آنے کے بعد بھارت میں سیاسی ہلچل مچ گئی ہے، جبکہ نئی دہلی نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
یروشلم پوسٹ کے مطابق، ایپسٹین سے منسوب ایک ای میل میں نریندر مودی کے 2017 کے اسرائیل کے سرکاری دورے کا ذکر کیا گیا ہے، جو کسی بھی بھارتی وزیرِاعظم کا اسرائیل کا پہلا دورہ تھا۔ ای میل میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ مودی نے اس دورے کے دوران ایپسٹین کے مشورے پر عمل کیا، تاہم بھارتی حکام نے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایلون مسک اور جیفری ایپسٹین کے درمیان دوستانہ رابطوں کے شواہد منظرعام پر آگئے
بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کا کہنا ہے کہ ای میل میں صرف ایک بات درست ہے اور وہ نریندر مودی کا اسرائیل کا سرکاری دورہ ہے، جبکہ باقی تمام دعوے گمراہ کن اور بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک سزا یافتہ مجرم کی من گھڑت باتیں ہیں اور نریندر مودی اور جیفری ایپسٹین کے درمیان کسی قسم کے رابطے یا مشاورتی کردار کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔
تاہم اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے کو بنیاد بنا کر حکومت سے وضاحت کا مطالبہ شروع کر دیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مرکزی اپوزیشن جماعت انڈین نیشنل کانگریس نے وزیرِاعظم مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کسی بھی ممکنہ تعلق کو قومی شرمندگی قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایپسٹین فائلز کی مزید کھیپ جاری: یہ کونسی معلومات ہیں، اہم شخصیات کے اوسان کیوں خطا ہیں؟
کانگریس کا دعویٰ ہے کہ ایپسٹین نے اپنی ای میل میں لکھا کہ مودی نے اسرائیل کے دورے سے قبل اس کے مشورے لیے اور یہ ای میل دورے کے تین دن بعد لکھی گئی۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ قومی وقار اور عالمی ساکھ سے جڑا ہے، اس لیے وزیرِاعظم کو وضاحت دینی چاہیے۔
واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین نے 2019 میں نیویارک کی جیل میں خودکشی کی، جبکہ وہ جنسی اسمگلنگ کے مقدمات کا سامنا کر رہا تھا۔ تازہ فائلز میں کئی عالمی شخصیات کے ناموں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیا جیفری ایپسٹین نریندر مودی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈیا جیفری ایپسٹین جیفری ایپسٹین میل میں دیا ہے
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔