ایپسٹین فائلز میں نریندر مودی کا نام بھی آگیا، بھارت میں سیاسی ہلچل
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
نئی دہلی: امریکا میں بدنامِ زمانہ جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق سامنے آنے والی نئی دستاویزات میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا نام سامنے آنے پر بھارت میں سیاسی تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اپوزیشن جماعت کانگریس نے وزیراعظم مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایپسٹین سے مبینہ روابط پر قوم کو وضاحت دیں۔
کانگریس کا کہنا ہے کہ ایپسٹین سے منسوب ایک ای میل میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نریندر مودی نے اس سے مشورہ لیا اور اسرائیل کا دورہ کیا۔
کانگریس کے مطابق ای میل میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ مودی نے اسرائیل میں امریکی صدر کے مفاد کے لیے سرگرمیاں انجام دیں اور ایپسٹین نے مودی کے دورے کو "کامیاب" قرار دیا۔
اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ مودی نے جون 2017 میں امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی، اس کے بعد جولائی 2017 میں اسرائیل کا دورہ کیا، جبکہ ایپسٹین کی ای میل اس دورے کے چند روز بعد لکھی گئی۔
کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ بھارت کے قومی وقار اور عالمی ساکھ سے جڑا ہوا ہے، اس لیے وزیراعظم کو واضح طور پر بتانا چاہیے کہ وہ ایپسٹین سے کس نوعیت کا مشورہ لیتے رہے اور ان کے درمیان تعلقات کی حقیقت کیا ہے۔
دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ وزارت کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بیان میں کہا کہ وزیراعظم مودی کا جولائی 2017 میں اسرائیل کا سرکاری دورہ ایک حقیقت ہے، تاہم ایپسٹین سے منسوب ای میل میں درج دیگر تمام دعوے ایک سزا یافتہ مجرم کے بے بنیاد اور من گھڑت خیالات ہیں، جن کی کوئی حیثیت نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایپسٹین سے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :