ایران، روس اور چین کی مشترکہ بحری مشقوں کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
تہران (ویب ڈیسک) ایران، روس اور چین نے شمالی بحرِ ہند میں مشترکہ بحری مشقوں کا اعلان کردیا ہے۔
ایران کے نیم سرکاری تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران ، روس اور چین رواں ماہ مشترکہ بحری مشقیں کریں گے۔
ان مشقوں کو میری ٹائم سکیورٹی بیلٹ کا نام دیا گیا ہے جبکہ ان مشقوں میں ایران کی بحریہ، پاسداران انقلاب کے گارڈز، چین اور روس کی بحری افواج حصہ لیں گی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ان مشقوں کا مقصد کسی بھی ممکنہ حملے یا خطرے سے نمٹنے کی پیشگی تیاری اور تینوں ممالک کے درمیان تعاون مضبوط بنانا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان مشقوں کا باقائدہ آغاز 2019 میں ایران کی بحریہ نے کیا تھا اور یہ مشقیں اب تک سات مرتبہ منعقد کی جا چکی ہے۔
واضع رہے کہ یہ مشقیں ایسے وقت میں کی جار ہی ہیں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا جبکہ امریکا نے مشرق وسطیٰ میں بحری بیڑہ تعینات کردیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مشقوں کا
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔