طالبان کیلئے نیا سفارتی جھٹکا، آسٹریلیا نے افغان سفارتخانہ بند کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
کینبرا: آسٹریلیا نے افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار کے بعد سفارتی سطح پر ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے افغان سفارتخانہ بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
آسٹریلوی میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان سفارتخانہ جون 2026 کے بعد اپنی سرگرمیاں مکمل طور پر ختم کر دے گا۔
آسٹریلیا کے محکمۂ خارجہ و تجارتی امور کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کی جانب سے مقرر کردہ کسی بھی سفارتکار، اعزازی قونصل یا نمائندے کو تسلیم نہیں کرے گا۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ طالبان حکومت کو افغان عوام کا جائز نمائندہ تسلیم نہ کرنے کی پالیسی کے تحت کیا گیا ہے۔
آسٹریلوی جریدوں ایس بی ایس نیوز اور نیشنل ٹریبون کے مطابق آسٹریلیا نے طالبان حکومت کی انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں، اختلافِ رائے پر پابندیوں اور سخت پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ریفیوجی کونسل آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ افغانستان کے کئی شہری طالبان کے زیر انتظام اداروں سے دستاویزات حاصل کرنے سے بھی خوفزدہ ہیں، جس کے باعث بیرون ملک مقیم افغان شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ماہرین کے مطابق افغان سفارتخانے کی بندش محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ طالبان حکومت کے خلاف بڑھتے ہوئے عالمی عدم اعتماد کی علامت ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کی سخت گیر اور غیر جمہوری پالیسیاں افغانستان کو عالمی تنہائی کی طرف دھکیل رہی ہیں، جس کے نتیجے میں سفارتی اور معاشی بحران مزید گہرا ہو رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
—فائل فوٹوپنجاب کے محکمۂ قانون نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ خزانہ نے 12جون کو بجٹ پیش کرنےکی تجویز دی ہے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرکاری چھٹی کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جائے اور نہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں کریک ڈاؤن تیز کرنے اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمۂ قانون کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں زیرِ التوا بل بھی منظور ہو جائیں گے اور 3 بلز منظور کرانے ہیں اس لیے معمول کا اجلاس طلب کیا جائے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے مخصوص اجلاس میں بلز منظور نہیں ہوسکتے۔