ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا اہم دورے پر پاکستان پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا اہم دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔ذرائع کے مطابق عالمی بینک کے صدر اجے بنگا 4 فروری تک پاکستان میں قیام کریں گے جس دوران وہ اعلیٰ سرکاری حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دورے کے دوران معاشی اصلاحات، بھارت کے ساتھ جاری آبی تنازع پر بات چیت متوقع ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ اجے بنگا کی وزیراعظم شہباز شریف، ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے علاوہ توانائی و اقتصادی امور کے حکام سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ذرائع کے مطابق ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا کو پاکستان کی معاشی اصلاحات اور ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات سے آگاہ کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی عالمی بینک کے ساتھ 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک پر عملدرآمد میں پیشرفت متوقع ہے، عالمی بینک اس فریم ورک کے تحت 2035 تک پاکستان کو 20 ارب ڈالر فراہم کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔