بھٹو کو صرف وعدہ معاف گواہ کے بیان پر پھانسی قانون کے منافی تھی: جسٹس محمد علی مظہر
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
بھٹو کو صرف وعدہ معاف گواہ کے بیان پر پھانسی قانون کے منافی تھی: جسٹس محمد علی مظہر WhatsAppFacebookTwitter 0 1 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد: (آئی پی ایس) سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس محمد علی مظہر نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے صدارتی ریفرنس پر اپنا 24صفحات پر مشتمل تفصیلی نوٹ جاری کرتے ہوئے قراردیا ہے کہ جلد بازی، غصے یا تعصب میں کیے گئے فیصلے ناصرف ملکی قانون بلکہ اسلامی اصولوں کے بھی منافی ہیں۔
جسٹس محمد علی مظہر نے سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے ماضی میں دیے گئے انٹرویوز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خود اعتراف کیا تھا کہ بھٹو کیس کا فیصلہ دباؤکے تحت کیا گیا تھا، سابق چیف جسٹس کا یہ اعتراف کسی بھی عقل سلیم رکھنے والے شخص کے لیے اس بات میں شک کی گنجائش نہیں چھوڑتا کہ یہ ایک عدالتی قتل تھا اور ایسا اعتراف ایک جج کے حلف کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے لکھا کہ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اگر جج کسی فریق یا وکیل سے ناراض ہو جائے یا اپنا صبر کھو دے، تو اس کے لیے قانون کے مطابق انصاف کرنا ناممکن ہو جاتا ہے، بھٹو کیس کی سماعت کرنے والے جج مبینہ طور پر اپیل کی سماعت کے دوران “غصے” میں تھے، جس سے آزادانہ ذہن کے ساتھ فیصلے کا امکان ختم ہو گیا تھا۔
انہوں نے مزید لکھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کا ٹرائل آئین کے آرٹیکل 4 اور 9 کے تحت منصفانہ ٹرائل کے معیار پر پورا نہیں اترتا تھا، ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ٹرائل میں شفافیت اور قانون کے مقررہ طریقہ کار کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے، محض ایک وعدہ معاف گواہ کے بیان پر سزائے موت سنانا قانون اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی تھا۔
جسٹس محمد علی مظہر کے مطابق ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ ٹرائل کے دوران ججوں کی ذاتی جانبداری اور پہلے سے قائم شدہ ذہن نے منصفانہ فیصلے کی بنیاد کو متاثر کیا، پولیس کی جانب سے بند کیے گئے کیس کو مارشل لا دور میں بغیر کسی قانونی جواز کے دوبارہ کھولا گیا۔
نوٹ میں لکھا گیا ہے کہ کیس کو سیشن کورٹ سے ہائی کورٹ منتقل کرنے کا فیصلہ ملزمان کو نوٹس دیے بغیر اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر سرسری انداز میں کیا گیا، ذوالفقار علی بھٹو نے ٹرائل کے دوران بنچ کے سربراہ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا جسے تسلیم نہ کرنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف تھا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے لکھا ہے کہ سپریم کورٹ کا مشاورتی دائرہ اختیار ریاست کے تمام اداروں کے لیے ایک وزنی اور اہم قانونی حیثیت رکھتا ہے، ٹرائل کے دوران استعمال کیے گئے سخت جملوں اور طنزیہ ریمارکس سے عدالتی وقار اور غیر جانبداری متاثر ہوئی۔
نوٹ کے مطابق ججوں کی جانبداری نے انہیں اس قابل نہیں چھوڑا تھا کہ وہ اس اہم کیس میں آزادانہ اور منصفانہ فیصلہ کر سکیں، میرے غور و فکر میں ایک حل طلب سوال یہ ہے کہ توبہ کے اصول سے متعلق سوال اس عدالت نے کیوں فریم کیا، یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ غیر منصفانہ اور جانبدار ٹرائل پر کس نے یا کس کو توبہ کرنی تھی، کیا وہ مرحوم ارواح توبہ کے مخاطب تھیں جنہوں نے ہائی کورٹ میں مقدمہ سنا تھا؟ یا وہ ججز توبہ کے ذمہ دار تھے جنہوں نے اپیل اور نظرِثانی کی سماعت کی تھی؟
مزید لکھا گیا کہ وہ بنچ توبہ کا مخاطب تھا جس نے سوال کو قابلِ سماعت سمجھا اور فریم کیا؟ یا وہ بنچ ارکان توبہ کے زمرے میں آتے ہیں جنہوں نے ریفرنس دائر ہونے کے برسوں بعد اپنی رائے دی، یہ رائے اگرچہ واضح الفاظ میں ندامت کا اظہار نہیں کرتی، تاہم کسی حد تک پشیمانی کو ظاہر کرتی ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے اپنی رائے دی ہے کہ اس رائے میں منصفانہ ٹرائل اور ڈیو پروسیس کو یقینی بنانے میں ناکامی پر توبہ کے اعتراف کا مفہوم بھی جھلکتا ہے، صدارتی ریفرنس کے سوال نمبر 4 پر اب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے اپنی رائے کا اختتام مرزا غالب کے اس شعر پر کیا۔
کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا، وہ غیر طے شدہ ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرباڑہ سیاسی اتحاد کا تیراہ سے عارضی نقل مکانی کرنیوالے متاثرہ خاندانوں کی حمایت کا اعلان باڑہ سیاسی اتحاد کا تیراہ سے عارضی نقل مکانی کرنیوالے متاثرہ خاندانوں کی حمایت کا اعلان سوہاوہ میں سرکاری افسر پر قاتلانہ حملہ، ملزمان تاحال گرفتار نہ ہو سکے جنگی فضا کے برخلاف امریکا کیساتھ بات چیت کے فریم ورک پر کام ہو رہا ہے، ایران پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت، ہمارے پاس شواہد موجود ہیں: محسن نقوی آبی معاہدہ محفوظ نہیں تو کوئی بھی معاہدہ محفوظ نہیں، پاکستانی مندوب امریکا کی بلوچستان میں دہشت گردی کی مذمت، پاکستان سے یکجہتی کا اظہارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جسٹس محمد علی مظہر نے ذوالفقار علی بھٹو ٹرائل کے کے دوران قانون کے کیے گئے توبہ کے کے لیے
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔