پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر حملہ کیس میں پیشرفت، سہولت کار بھی افغان نکلے
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹر پشاورخودکش دھماکوں کی تفتیش میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، سہولت کار بھی افغانی نکلے ہیں۔تفتیشی حکام نے بتایا کہ دھماکے کرنے والے خودکش بمباروں کے سہولت کاروں کی نشادہی ہوگئی، واردات میں ملوث سہولت کاروں کا تعلق بھی افغانستان سے تھا۔حکام کے مطابق خودکش دھماکوں کی تمام منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، واقعہ سے متعلق اہم گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہے۔یاد رہے کہ فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکواٹرز پر حملہ گزشتہ سال 24 نومبر کو ہوا تھا، حملے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے 3 جوان شہید اور 5 زخمی ہوئے تھے، دہشتگردوں کے حملے میں 8 شہری بھی زخمی ہوئے تھے۔تفتیشی حکام کے مطابق ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنے والے تینوں خودکش بمبار افغان شہری تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔