پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر حملہ کیس میں پیشرفت، سہولت کار بھی افغان نکلے
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹر پشاورخودکش دھماکوں کی تفتیش میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، سہولت کار بھی افغانی نکلے ہیں۔تفتیشی حکام نے بتایا کہ دھماکے کرنے والے خودکش بمباروں کے سہولت کاروں کی نشادہی ہوگئی، واردات میں ملوث سہولت کاروں کا تعلق بھی افغانستان سے تھا۔حکام کے مطابق خودکش دھماکوں کی تمام منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، واقعہ سے متعلق اہم گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہے۔یاد رہے کہ فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکواٹرز پر حملہ گزشتہ سال 24 نومبر کو ہوا تھا، حملے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے 3 جوان شہید اور 5 زخمی ہوئے تھے، دہشتگردوں کے حملے میں 8 شہری بھی زخمی ہوئے تھے۔تفتیشی حکام کے مطابق ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنے والے تینوں خودکش بمبار افغان شہری تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔