ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس پر جسٹس محمد علی مظہر نے اضافی رائے جاری کردی۔

سپریم کورٹ نے 6 مارچ 2024 کو بھٹو ریفرنس پر رائے دی تھی، اضافی نوٹ میں سابق جسٹس نسیم حسن شاہ کے عدالتی دباؤ کے بارے میں انٹرویو پر داغ دہلوی کا شعر بھی لکھا گیا۔

نہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی

بہت دیر کی مہرباں آتے آتے

اضافی نوٹ کے مطابق میرے لیے یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ بھٹو ریفرنس کو طویل عرصے تک سرد خانے میں کیوں رکھا گیا،جسٹس محمد علی مظہر  نے کہا کہ بھٹو ریفرنس پر سپریم کورٹ نے 13سال بعد فیصلہ دیا،  دیر آید درست آید، ذوالفقار علی بھٹو کا ٹرائل آئین کے آرٹیکل 4 اور 9 کے تحت منصفانہ ٹرائل کے معیار پر پورا نہیں اترتا تھا۔

جسٹس محمد علی مظہر  نے لکھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ٹرائل میں شفافیت اور قانون کے مقررہ طریقہ کار کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے، محض ایک وعدہ معاف گواہ کے بیان پر سزائے موت سنانا قانون اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی تھا۔

جسٹس محمد علی مظہر  نے لکھا کہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ ٹرائل کے دوران ججوں کی ذاتی جانبداری اور پہلے سے قائم شدہ ذہن نے منصفانہ فیصلے کی بنیاد کو متاثر کیا، پولیس کی جانب سے بند کیے گئے کیس کو مارشل لا دور میں بغیر کسی قانونی جواز کے دوبارہ کھولا گیا،  کیس کو سیشن کورٹ سے ہائی کورٹ منتقل کرنے کا فیصلہ ملزمان کو نوٹس دیے بغیر اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر سرسری انداز میں کیا گیا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے رائے دی کہ   ذوالفقار علی بھٹو نے ٹرائل کے دوران بینچ کے سربراہ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا جسے تسلیم نہ کرنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف تھا، سپریم کورٹ کا مشاورتی دائرہ اختیار ریاست کے تمام اداروں کے لیے ایک وزنی اور اہم قانونی حیثیت رکھتا ہے، ٹرائل کے دوران استعمال کیے گئے سخت جملوں اور طنزیہ ریمارکس سے عدالتی وقار اور غیر جانبداری متاثر ہوئی۔

جسٹس محمد علی مظہر  نے لکھا کہ ججز کی جانبداری نے انہیں اس قابل نہیں چھوڑا تھا کہ وہ اس اہم کیس میں آزادانہ اور منصفانہ فیصلہ کر سکیں،  میرے غور و فکر میں ایک حل طلب سوال یہ ہے کہ توبہ کے اصول سے متعلق سوال اس عدالت نے کیوں فریم کیا۔

یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ غیر منصفانہ اور جانبدار ٹرائل پر کس نے یا کس کو توبہ کرنی تھی، کیا وہ مرحوم ارواح توبہ کے مخاطب تھیں جنہوں نے ہائی کورٹ میں مقدمہ سنا تھا؟  یا وہ ججز توبہ کے ذمہ دار تھے جنہوں نے اپیل اور نظرِثانی کی سماعت کی تھی؟ وہ بینچ توبہ کا مخاطب تھا جس نے سوال کو قابلِ سماعت سمجھا اور فریم کیا؟ 

جسٹس محمد علی مظہر نے رائے دی کہ یا وہ بینچ ارکان توبہ کے زمرے میں آتے ہیں جنہوں نے ریفرنس دائر ہونے کے برسوں بعد اپنی رائے دی، یہ رائے اگرچہ واضح الفاظ میں ندامت کا اظہار نہیں کرتی، تاہم کسی حد تک پشیمانی کو ظاہر کرتی ہے،  اس رائے میں منصفانہ ٹرائل اور ڈیو پروسیس کو یقینی بنانے میں ناکامی پر توبہ کے اعتراف کا مفہوم بھی جھلکتا ہے، صدارتی ریفرنس کے سوال نمبر 4 پر اب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے اپنی رائے کا اختتام مرزا غالب کے اشعار پر کیا۔

کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جسٹس محمد علی مظہر نے ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس پر ٹرائل کے توبہ کے

پڑھیں:

واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار

اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔

پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔

، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔

دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔

مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی

جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے