بلوچستان میں 17 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، 145 دہشتگردوں کی لاشیں ہمارے پاس ہیں: سرفراز بگٹی
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے دہشتگردوں کے ساتھ مقابلے میں 17 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے جبکہ 145 دہشتگردوں کی لاشیں ہمارے پاس موجود ہیں۔کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سرفراز بگٹی کا کہنا تھا دہشتگردوں نے 31 معصوم شہریوں کو شہید کیا، گوادر میں دہشتگردوں نے پانچ خواتین اور تین بچوں کو شہید کیا، شہید ہونے والی فیملی کا تعلق خضدار سے تھا اور وہ بلوچ تھے، یہ خود کو بلوچ کہتے ہیں لیکن یہ بلوچ نہیں دہشت گرد ہیں۔ان کا کہنا تھا افغان سر زمین بھی پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، اطلاعات ہیں کہ ان دہشتگردوں کے ساتھ افغانی بھی شامل ہیں، آج بشیر زیب، رحمان گل اور اللہ نظر افغانستان میں موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس دہشتگرد حملے کی انٹیلی جنس رپورٹ موجود تھی، ہم نے ایک دن پہلے آپریشن شروع کردیا تھا، 145 دہشتگردوں کی لاشیں ہمارے پاس موجود ہیں، یہ لوگ ہندوستان کے ایما پر ایسے واقعات کرکے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جب پاکستان ٹیک آف کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم ایک سیکنڈ کیلئے بھی سرینڈر کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں، ہم ایک ہزار سال تک ان کے خلاف جنگ لڑیں گے، ہمارا خون سستا نہیں ہے، ہم انہیں جانے نہیں دیں گے، ہم بلوچستان کو ان کے لیے جہنم بنا دیں گے،مذاکرات سے متعلق ایک سوال کے جواب وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا یہ لوگ بلوچ عوام کو ہندوستان کی ایما پر ایندھن کیوں بنا رہے ہیں، بی ایل اے کوئی رجسٹرڈ جماعت ہے جس سے مذاکرات کرنے ہیں؟ یہ بندوق کے زور پر اپنا نظریہ ہم پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا اس جنگ اور تشدد کو محرومی کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، ہم ایک مارٹر مار کر انہیں ہلاک کر سکتے تھے مگر شہری بھی مارے جاتے، دہشت گرد شہریوں میں آکر مل جل جاتے ہیں، ہمارا عزم ہے کہ ہم دہشت گردی کےخلاف لڑیں گے اور ان کے خلاف انٹیلیجنس آپریشن کریں گے، دہشت گردوں کو بلوں سے نکالیں گے اور ختم کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا ہمارے پاس
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔