کوئٹہ: بلوچستان بھر میں دفعہ 144 نافذ، ایک ماہ کے لیے سخت پابندیاں عائد
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
بلوچستان حکومت نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کے پیشِ نظر دفعہ 144 کے تحت ایک ماہ کے لیے سخت پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔
جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے بھر میں اسلحے کی نمائش اور استعمال، ڈبل سواری، کالے شیشوں والی اور غیر رجسٹرڈ گاڑیوں پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔
حکام کے مطابق 5 یا زائد افراد کے اجتماعات، جلسے جلوس اور چہرہ ڈھانپنے پر بھی ایک ماہ کے لیے پابندی ہوگی۔ پابندیوں کا اطلاق فوری طور پر نافذ العمل ہوگا جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے: کوئٹہ: دہشتگردی کے واقعات میں شہید پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا، اعلیٰ حکام کی شرکت
واضح رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 12 مقامات پر حملے ہوئے تھے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے دعویٰ کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے 40 گھنٹوں کے اندر کارروائیاں کرتے ہوئے 145 عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا، جن کی لاشیں حکام کے پاس موجود ہیں۔
وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ ان حملوں میں سیکیورٹی فورسز کے 17 جوان، جن میں پولیس اور ایف سی اہلکار شامل ہیں، شہید ہوئے، جبکہ 31 شہری شہید اور زخمی ہوئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان دفعہ 144 کوئٹہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان کوئٹہ کے لیے
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔