data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور:وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں بھارت کے خلاف حاصل کی گئی کامیابی نے بھارت کو شدید تکلیف میں مبتلا کر دیا ہے، اسی لیے وہ پراکسیز کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم سیکیورٹی ایجنسیاں ان عناصر کا مکمل خاتمہ کرکے ہی دم لیں گی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ کل بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کی جانب سے بزدلانہ حملہ کیا گیا، جسے سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا، وہ پاک فوج اور سیکیورٹی اداروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جن کی پیشہ ورانہ کارروائی کے باعث اسی سے زائد دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا اور بلوچستان ایک بڑے نقصان سے بچ گیا۔

عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ دہشت گرد بارہ مختلف شہروں میں حملوں کی نیت سے داخل ہوئے تھے، سیکیورٹی فورسز نے بھرپور مقابلہ کرتے ہوئے انہیں شکست دی، بھارتی میڈیا پر بیٹھ کر بلوچستان کا ذکر کیا جا رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت براہِ راست ان سازشوں میں ملوث ہے،وزیراعظم شہباز شریف صورتحال سے لمحہ بہ لمحہ آگاہ رہے اور ریاستی اداروں نے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کارروائیاں کیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ جب بھارت کو ماضی میں منہ کی کھانی پڑی تو وہ دم دبا کر بھاگ گیا اور آج بھی وہ اپنی شکست کا بدلہ پراکسیز کے ذریعے لینے کی کوشش کر رہا ہے، جو کبھی کامیاب نہیں ہو گی۔

کے پی کے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے ترجمان ٹی وی پروگرامز میں بیٹھ کر زبان درازی کرتے ہیں، انہیں چاہیے کہ پنجاب سے سیکھیں، شہباز شریف کے دورِ وزارتِ اعلیٰ میں پنجاب میں بڑے ترقیاتی منصوبے مکمل ہوئے اور موجودہ وزیراعلیٰ بھی صوبے میں نمایاں کام کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قوم خیبرپختونخوا حکومت کو اربوں روپے دیتی ہے لیکن وہاں اب تک کوئی قابلِ ذکر منصوبہ نظر نہیں آتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ تیراہ کے لیے مختص چار ارب روپے کہاں خرچ کیے گئے؟ باڑہ کے سیاسی اتحاد نے بھی بدانتظامی اور بدعنوانی کی نشاندہی کی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں جب فتنہ الخوارج حملہ کرتا ہے تو پاک فوج آگے بڑھ کر عوام کی حفاظت کرتی ہے جبکہ صوبائی حکومت اکثر غائب ہوتی ہے،قدرتی آفات کے دوران بھی پنجاب حکومت خیبرپختونخوا کی مدد کرتی ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کا کام صرف احتجاج کرنا اور اڈیالہ جیل کے باہر بیٹھنا رہ گیا ہے، گورنر راج ایک آئینی آپشن ہے اور جب کوئی صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو جائے تو یہ اختیار استعمال کیا جا سکتا ہے۔

بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ انہیں مکمل طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، رضامندی کے بعد ان کا علاج کیا گیا اور ایک معمولی طبی عمل کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ریاست پاکستان دہشت گردی، پراکسی جنگ اور بدامنی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ملک دشمن عناصر کو ہر صورت انجام تک پہنچایا جائے گا۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عطا اللہ تارڑ نے وفاقی وزیر کرتے ہوئے نے کہا کہ

پڑھیں:

کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان

کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے  جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔

ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔

حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔

2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔

 کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم  اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک  ہے۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو  نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک  محیط  ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام  تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔

یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔

صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔

نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ  سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔

پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن  اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔

اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے  80 فیصد  قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا