فائز عیسیٰ کادہشتگردوں کے حملے کے دوران کوئٹہ میں شہید ہونے والے انسپکٹر کو خراج عقیدت
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے گزشتہ روز دہشتگردوں کے حملے کے دوران کوئٹہ میں شہید ہونے والے انسپکٹر کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
اپنے بیان کا آغاز انہوں نے قرآن مجید کی آیت سے کیا:
اور تم ہرگز انہیں مردہ نہ سمجھو جو اللہ کی راہ میں مارے گئے، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے۔ (القرآن، 3:169)
قاضی فائز عیسیٰ نے بتایا " ہفتے کے روز، 31 جنوری 2026 کو صبح تقریباً 9 بجے، دہشت گردوں نے بلوچستان میں ایک ساتھ متعدد حملے کیے۔ انسپکٹر محمد زبیر اور اسسٹنٹ سب-انسپکٹر محمد نعیم زرغون روڈ پر ہاکی اسٹیڈیم کے قریب تعینات تھے، جہاں سے میرا گھر صرف ایک پتھر پھینکنے کی دوری پر تھا جب میں بلوچستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تھا۔ دہشت گردوں کی گاڑی تیزی سے ان کی طرف بڑھ رہی تھی، لیکن زبیر اور نعیم نے حاضر دماغی سے کام لیتے ہوئے اس پر فائرنگ کی۔ تاہم، اپنی آخری سانس میں، دہشت گرد نے دھماکا خیز مواد کو اڑا دیا۔دھماکے میں زبیر شہید ہو گئے اور نعیم کو سر اور ٹانگوں پر زخم آئے۔ ان کی بہادری اور فرض کے لیے بے لوث لگن نے دہشت گرد کو ان کے آگے سے گزرنے سے روک دیا اور انہوں نے ایک خونریز قتل عام کو ہونے سے بچا لیا۔"
وزیراعلیٰ مریم نواز کاصدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود کے انتقال پر اظہار افسوس
قاضی فائز عیسیٰ کے مطابق نرم خو اور طاقتور انسان، زبیر، ایک نسلی بلوچ تھے، جنہیں بلوچوں کے جھوٹے نام نہاد آزادی کے لیے لڑنے والے نے قتل کیا۔
سابق چیف جسٹس نے بیان کا اختتام بھی قرآن پاک کی آیت سے کیا:
"اور جس نے کسی مومن کو قصداً قتل کیا، اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اور اس پر اللہ کا غضب اور لعنت ہے، اور اس کے لیے اس نے سخت عذاب تیار کیا ہے۔" (القرآن، 4:93)
انہوں نے شہید زبیر اور زخمی اہلکار نعیم کے ساتھ اپنی پرانی تصویر بھی شیئر کی جو کہ 2014 میں اس وقت لی گئی تھی جب وہ بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس تھے۔
ایرانی پارلیمنٹ نے یورپی ممالک کی افواج کو دہشتگرد گروہ قرار دے دیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔