اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے گزشتہ روز دہشتگردوں کے حملے کے دوران کوئٹہ میں شہید ہونے والے انسپکٹر کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ 

اپنے بیان کا آغاز انہوں نے قرآن مجید کی آیت سے کیا: 

اور تم ہرگز انہیں مردہ نہ سمجھو جو اللہ کی راہ میں مارے گئے، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے۔ (القرآن، 3:169)

قاضی فائز عیسیٰ نے بتایا " ہفتے کے روز، 31 جنوری 2026 کو صبح تقریباً 9 بجے، دہشت گردوں نے بلوچستان میں ایک ساتھ متعدد حملے کیے۔ انسپکٹر محمد زبیر اور اسسٹنٹ سب-انسپکٹر محمد نعیم زرغون روڈ پر ہاکی اسٹیڈیم کے قریب تعینات تھے، جہاں سے میرا گھر صرف ایک پتھر پھینکنے کی دوری پر تھا جب میں بلوچستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تھا۔ دہشت گردوں کی گاڑی تیزی سے ان کی طرف بڑھ رہی تھی، لیکن زبیر اور نعیم نے حاضر دماغی سے کام لیتے ہوئے اس پر فائرنگ کی۔ تاہم، اپنی آخری سانس میں، دہشت گرد نے دھماکا خیز مواد کو اڑا دیا۔دھماکے میں زبیر شہید ہو گئے اور نعیم کو سر اور ٹانگوں پر زخم آئے۔ ان کی بہادری اور فرض کے لیے بے لوث لگن نے دہشت گرد کو ان کے آگے سے گزرنے سے روک دیا اور انہوں نے ایک خونریز قتل عام کو ہونے سے بچا لیا۔"

وزیراعلیٰ مریم نواز  کاصدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود  کے انتقال پر اظہار افسوس 

قاضی فائز عیسیٰ کے مطابق نرم خو اور طاقتور انسان، زبیر، ایک نسلی بلوچ تھے، جنہیں بلوچوں کے جھوٹے نام نہاد آزادی کے لیے لڑنے والے نے قتل کیا۔

سابق چیف جسٹس نے بیان کا اختتام بھی قرآن پاک کی آیت سے کیا:

 "اور جس نے کسی مومن کو قصداً قتل کیا، اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اور اس پر اللہ کا غضب اور لعنت ہے، اور اس کے لیے اس نے سخت عذاب تیار کیا ہے۔" (القرآن، 4:93)

انہوں نے شہید زبیر اور زخمی اہلکار نعیم کے ساتھ اپنی پرانی تصویر بھی شیئر کی جو کہ 2014 میں اس وقت لی گئی تھی جب وہ بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس تھے۔

ایرانی پارلیمنٹ نے یورپی ممالک کی افواج کو دہشتگرد گروہ قرار دے دیا

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: فائز عیسی چیف جسٹس

پڑھیں:

کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار

ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • اسپاٹیفائی کا عاطف اسلم کو خراج تحسین، گلوکار کی عالمی مقبولیت کا معترف
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار