دہشتگردی کیخلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری ہے، طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
فیصل آباد:(نیوزڈیسک) وزیرِ مملکت برائے امورِ داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں نیشنل ایکشن پلان کے تحت پوری قوت سے جاری ہیں اور ریاستِ پاکستان زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ وہ فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں نے سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائیوں کے ذریعے ان حملوں کو ناکام بنایا۔ طلال چوہدری نے واضح کیا کہ یہ تاثر سراسر غلط ہے کہ دہشت گردوں نے کسی شہر یا علاقے پر قبضہ کیا، دہشت گرد کسی مقام پر زیادہ دیر ٹھہرنے میں ناکام رہے۔
وزیرِ مملکت نے بتایا کہ کارروائیوں کے دوران متعدد دہشت گرد ہلاک اور گرفتار کیے گئے جبکہ فرار ہونے والوں کا تعاقب جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے خواتین اور بچوں کو انسانی ڈھال بنایا، جس کے باعث سیکیورٹی فورسز نے انتہائی احتیاط کے ساتھ کارروائیاں کیں تاکہ بے گناہ شہری محفوظ رہیں۔
طلال چوہدری نے کہا کہ خود کو بلوچ حقوق کا علمبردار کہنے والی تنظیموں نے سکولوں، ہسپتالوں، بازاروں، منڈیوں اور بینکوں کو نشانہ بنایا، جو ان کے اصل عزائم کو بے نقاب کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا اور خصوصاً بھارتی میڈیا پر بلوچستان کے حوالے سے منظم، جھوٹا اور گمراہ کن پروپیگنڈا کیا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ جعلی ویڈیوز اور جھوٹے دعوے پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بیرونی سرپرستی اور فنڈنگ کا ثبوت ہیں۔ وزیرِ مملکت کے مطابق بی ایل اے سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف شواہد عالمی برادری کے سامنے پیش کیے جا چکے ہیں، جس کے بعد انہیں بین قرار دیا گیا۔
طلال چوہدری نے کہا کہ وفاقی وزیرِ داخلہ کے کوئٹہ دورے سے ثابت ہوتا ہے کہ بلوچستان میں حالات معمول کے مطابق ہیں اور حکومت مکمل طور پر چوکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جنگ دراصل ترقی اور دہشت گردی کے درمیان ہے اور دہشت گرد عناصر بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور سرمایہ کاری کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
وزیرِ مملکت نے وادیٔ تیراہ کے حوالے سے کہا کہ وہاں کے مسائل دہشت گردی نہیں بلکہ صوبائی حکومت کی ناکامی اور وعدوں کی عدم تکمیل کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نو سال گزرنے کے باوجود ہسپتال، تھانے اور سکول نہ بننا کے پی حکومت کی نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان قومی اتفاقِ رائے ہے، اس پر عملدرآمد جاری رہے گا اور بلوچستان میں امن بحال ہو رہا ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔