کراچی:

وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ پر وزیر اعظم اور وزیر اعلی دادرسی نہیں کرسکتے تو یہ گورنر ہاؤس کرے گا ان سے کوئی امید نہیں رکھی، گورنر سندھ نے کہا کہ وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کو اب شہر کا فیصلہ کروانا چاہیے گل پلازہ کے متاثرین کو گورنر سندھ اور ایم کیو ایم مل کر پلاٹ دے گی۔

گورنر ہاؤس میں سانحہ گل پلازہ کے متاثرین سے متعلق تقریب کا انعقاد ہوا جس میں گورنر سندھ، خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار، علی خورشیدی سمیت اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، گل پلازہ کمیٹی کے صدر تنویر پاستا، تاجر رہنما جاوید بلوانی، زبیر موتی والا، سمیت دیگر بھی شریک ہوئے۔

زبیر موتی والا نے کہا کہ کراچی چیمبر نے بولٹن مارکیٹ میں پورا کام کیا تھا، ہم نے غیر سیاسی کمیٹی بنائی اور کام کیا، صدر پاکستان، مراد علی شاہ گورنر سندھ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو ہمارے ساتھ کھڑے ہیں، ہم فائر سیفٹی کے حوالے سے بھی تربیت کا کام کررہے ہیں، لواحقین کو حکومت سندھ کی جانب سے معاوضہ ادا کیا گیا ہے، یہ انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے جن کے لوگ گئے ہیں ان کے ساتھ کھڑے ہیں، کراچی چیمبر نے پہلے بھی ہر جگہ کام کیا تھا لوگوں کو بلڈنگ بنا کر دی تھی، ہماری خواہش یہی ہے جن کا جو مال گیا ہے وہ پورا کیا جائے بہت سارے لوگوں نے فارم فل کیے ہیں۔

صدر یونین گل پلازہ تنویر پاستا نے کہا کہ گورنر سندھ نے یقین دلایا کہ جب تک ہمارے تاجر بحال نہیں ہوتے وہ ہر قدم پر ساتھ ہیں حکومت سندھ نے بھی بھرپور ساتھ دیا ہے، گورنر سندھ وفاق سے درخواست کریں کہ وہ بھی لواحقین کی مدد کریں۔

جے ڈی سی کے سربراہ ظفر عباس نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ متاثرین کے لیے آواز بلند کروں، میں نے کہا تھا کہ آگ جس طرح بجھائی جارہی تھی وہ عمارت گرنے کا انتظار کیا جارہا تھا، انتظامات نہیں ہیں، لواحقین کو ڈیڑھ ڈیڑھ کلو راکھ دے دی گئی، پنجاب میں ایک عورت وزیر اعلی ہے نے ایک واقعے پر جو ایکشن لیا وہ سب کے سامنے ہے۔

مولانا بشیرفاروقی نے کہا کہ گورنر سندھ وہ کام کرواسکتے ہیں جو ماضی میں کسی نے نہیں کیا، ایسا سیل قائم کریں جہاں ہر شخص کی فریاد پہنچے، متاثرین کو گھر کے اخراجات کے لیے سیلانی جو کردار ادا کرسکتا ہے وہ کررہا ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ خالد مقبول کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ ان کی ہدایت پر اس سانحے پر سب سے پہلے گورنر سندھ پہنچے، انہوں نے اداروں سے فوری طور پر بات کی اور لوگوں کو زندہ بچایا کراچی کے لوگ یاد رکھیں کہ ہم ہر مشکل میں ان کے ساتھ کھڑے ہونگے، کئی سالوں سے یہاں مالی معاشی تباہی ہورہی ہے، گورنر سندھ ایک وفاقی نمائندے ہیں جو آپ کے دکھ درد میں آپ کے ساتھ ہیں ہمارے نظام میں جو کمی تھی اسے پورا کرنا ہے فائر ٹینڈر کیوں نہیں آئے؟ پانی کیوں کم تھا ان چیزوں پر قابو پانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فارنسک لیبارٹری پانچ سال سے کیوں نہیں بن پائی؟ پی ڈی ایم اے سانحے پر کہاں غائب تھی؟ دروازے اور دیوار توڑ کر لوگوں کو کیوں نہیں بچایا جاسکا؟ کراچی کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک ہے، بات اب فیصلے کی طرف جانی چاہیے ہمارا اس پر آئینی مطالبہ ہے، حادثہ خواب غفلت سے جگا رہا ہے تو جوابات دینے ہوں گے، چیف جسٹس اپنی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیں اور ٹی آر اوز بھی واضح ہونے چاہیں، یاد رکھیں کراچی بچے گا تو پاکستان بچے گا اور کراچی کو بچانے کے لیے تمام توانائی صرف کرنی چاہیے۔

گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ گل پلازہ میں لوگوں کو زندہ جلتے دیکھا، اس شہر میں سانحہ ہوجاتے ہیں لیکن انتظامیہ کے وسائل ایسے نہیں جو کسی کو بچاسکے وسائل ٹیکس کے پیسوں سے بچائے جاتے ہیں لیکن نہ وسائل بنائے جارہے ہیں نہ بنائے جانے کا کوئی ارادہ ہے ہاں لواحقین کو پیسے دے کر زبان بند کرتے ہیں یہ نیا طریقہ ہے، اس شہر میں مرنے والے کی قیمت کا تعین ختم ہوچکا ہے، آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں اس کے لیے کیا انتظامات کیے وہ نہیں بتایا جارہا۔

گورنر سندھ نے کہا کہ یہاں سے جو ٹیکس لیا جاتا ہے اس کا پانچ فیصد بھی یہاں نہیں لگایا جاتا، وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کو اب شہر کا فیصلہ کروانا چاہیے، اگر ہماری آواز اس سانحے پر بلند نہ ہوتی تو لواحقین کا کام آسان نہیں ہوتا، آج تقریب میں سب لوگ دھوپ میں بیٹھے ہیں جس کا مقصد یہ بتانا تھا کہ گل پلازہ میں لوگ آگ کی تپش سے کیسے مر گئے لواحقین پر سایہ ختم ہوگیا ہے، دھوپ کی تپش قابل برداشت نہیں تو آگ کی تپش کیسی ہوگی؟ لواحقین معاوضے کے لیے کن کن مشکلات سے دوچار ہیں یہ بتانا ضروری ہے، 
یہاں ٹیکس گردی ہورہی یہاں سے کمارہے ہیں مگر لگا نہیں رہے۔

گورنر سندھ نے کہا کہ ہم نے بلڈرز سے بات کی ہے لواحقین کو مفت پلاٹ دیں گے، ہم اپنے حق کی جدوجہد تو کریں گے اور جلد حق لے لیں گے، گل پلازہ کی آگ کے ہم سب ذمہ دار ہیں، یوسی ناظم، ٹاؤن ناظم اور میئر کراچی سب ذمہ دار ہیں، یوسی پلازہ کا یوسی ناظم اور ٹائون ناظم کون تھا؟ جماعت اسلامی  کے نو ٹاؤنز ہیں، ایم کیو ایم کے بائیکاٹ سے تم کامیاب ہوئے تم ہماری طرح آواز بلند کرو، آج شاہراہ فیصل پر اسٹیج لگایا جارہا ہے آپ اپنے نو ٹاؤنز کا حساب دیں، تختی لگانی ہو تو یہ پہنچ جاتے ہیں ہمیں تو اب پتا لگا کہ یہ بھی لیز کے معاملات میں شامل ہیں فاروق بھائی سے پہلے لیز انہوں نے دی تھی۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے سارا ملبہ ان پر ڈال دیا جو کچرہ اٹھانے کی سکت بھی نہیں رکھتے، کے پی سے وزیر اعلی کراچی آگئے اور کہاں کراچی ہمارا ہے گل پلازہ میں لوگ مر گئے اب نہیں کہہ رہے کہ کراچی ہمارا ہے، اڈیالہ جیل کے باہر بیٹھ جاتے ہیں مگر گل پلازہ کے باہر نہیں بیٹھتے، آئیں بیٹھے میں کھانا پینا فراہم کروں گا، جب کراچی جلتا ہے تو کوئی نہیں آتا اور جب کوئی بات کرتا ہے تو ڈرایا جاتا ہے مجھے روز ہٹانے کی بات کرتے ہیں، اس ڈر اور خوف سے حق کی آواز اٹھانا نہیں چھوڑوں گا۔

انہوں نے کہا کہ کل ایمل ولی آئے تھے کہا کہ پختون آپ کی پارٹی کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے، صرف جاگیر دار اور وڈیرے کے ساتھ کام نہیں کریں گے۔

وفاقی وزیر اور چیئرمین ایم کیوایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ یہ شہر جن کا ہے نہیں وہ یہاں سیاست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو عبادت آج گورنر ہاؤس میں ہورہی ہے وہ ہر سیاست سے بڑی ہے، جتنا ظلم ہوسکتا تھا اس شہر پر ہوچکا ہے، حق  بدمعاشی اس شہر پر لوگ تسلیم کروانا چاہتے ہیں، وہ چاہتے ہیں یہ شہر بیروت بن جائے، ایم کیو ایم کے ہوتے ہوئے کوئی اسے بیروت تو بنا سکتا ہے لیکن بے غیرت نہیں بناسکتا، یہ شہر بارود کے ڈھیر پر بسا ہوا ہے، سانحات، واردات، حق تلفیوں کے بارود بچا رکھے ہیں اس شہر میں اب کوشش ہے کہ یہ شہر ملبے کا ڈھیر بن جائے۔

خالد مقبول نے کہا کہ سب سے بڑا وی وی آئی پی وہ ہوتا ہے جو ٹیکس دیتا ہے، اس شہر میں اب انہی ٹیکس والوں کو جلا کر انہیں عمارتوں میں دفن کیا جارہا ہے، اس شہر کی منتخب نمائندگی یہاں موجود ہے، اس شہر میں ایک بشریٰ زیدی واقعے کے بعد اس شہر کو خون میں نہلا دیا گیا تھا اس وقت ایم کیو ایم کا وجود اس طرح نہیں تھا، ہم گل پلازہ واقعے کے بعد مطالبات کررہے ہیں اگر وزیر اعظم ہاؤس وزیر اعلی ہاؤس اس شہر کی دادرسی نہیں کرسکتا وہ یہ گورنر ہاؤس کرے گا وزیراعظم، وزیر اعلی ہاؤس کو متنبہ تو کیا جاسکتا ہے لیکن ان سے کوئی امید نہیں رکھی جاسکتی۔

انہوں نے کہا کہ گل پلازہ کے متاثرین کو گورنر سندھ اور ایم کیو ایم مل کر پلاٹ دے گی، بلوچستان میں بھارتی اسپانسرز دہشت گردوں نے جو خاک و خون کا کھیل جاری رکھا ہے اس کی مذمت کرتے ہیں، یہ شہر ملک کو بنانے والے بانیان پاکستان کا شہر ہے، اس ملک کو سنبھالنے کی اس شہر نے قسم کھا رکھی ہے، مسئلہ فائر ٹینڈر کے پانی کا نہیں حکمرانوں کے آنکھوں کے پانی کا ہے، ایم کیو ایم کے جب بھی میئر آئے اسی دور میں فائر ٹینڈرز آئے، کراچی کے فائر ٹینڈرز دادو ، سکھر لاڑکانہ میں ان حکمرانوں کی اوطاقوں میں کھڑے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور گورنر سندھ نے گل پلازہ کے ایم کیو ایم خالد مقبول لواحقین کو گورنر ہاؤس وزیر اعلی لوگوں کو کے ساتھ یہ شہر کے لیے

پڑھیں:

پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراطلاعات   پنجاب  عظمٰی بخاری  نے کہا ہےکہ  پنکی ڈرگ  والی  پر ڈرامہ  بنانے کا  اعلان کیا گیا ہے، اس  موضوع  پر فلم بننی چاہیے تھی۔لاہور میں معروف ہدایت کارہ سنگیتا کی نئی فلم کی افتتاحی تقریب  سے خطاب کرتے ہوئے عظمٰی بخاری نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز  سنیما انڈسٹری کی بہتری کے لیے کام کر رہی ہیں، نوجوان نسل کو  ٹچ  اسکرین سے نکال کر سنیما کی طرف لائیں گے۔

عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ ہم اچھے ڈرامے بنالیتےہیں تو  اچھی فلم کیوں نہیں بناسکتے، اچھے ڈراموں کے ساتھ اچھی فلمیں بھی بنانا ہوں گی، نوجوان ہدایت کار فلمی دنیا میں نئی سوچ لے کر آئیں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز  نے فلمی دنیا کو نئی سمت دی ہے، فلم کسی مخصوص طبقے کے لیے نہیں ہونی چاہیے، اچھے موضوعات پر معیاری فلمیں بناناہوں گی۔

پاکستان کی پرائیویٹ حج سکیم کے 3 منظمین کی پہلی،دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے کی خوشی میں مکہ مکرمہ میں اظہار تشکر کی تقریب

ان کا کہنا تھا کہ پنکی ڈرگ  والی پر ڈرامہ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے، اس موضوع  پر فلم بننی چاہیے تھی، فلموں کے ذریعے ملک کا مثبت تشخص اجاگر کیا جاسکتا ہے، فلم سٹی منصوبے میں تمام جدید سہولیات فراہم کریں گے، جو نوجوان فلم  اور ڈرامہ پڑھ کر آرہے ہیں انہیں بھی موقع  ملےگا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو