بلوچستان کی طرف اٹھنے والی ہر آنکھ نکال لی جائےگی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے بزدلانہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے ان حملوں کو دلیری سے پسپا کیا، جس پر وہ فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہیں۔
اپنے ایک بیان میں مریم نواز نے کہاکہ بلوچستان پاکستان ہے اور پاکستان بلوچستان ہے، اور ہر پاکستانی بلوچستان اور اس کے عوام سے بے انتہا محبت کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: نیشنل ایکشن پلان پر اتفاق رائے موجود، دہشتگردی کے معاملے پر سیاسی الزام تراشی بند ہونی چاہیے، طلال چوہدری
انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کے چپے چپے کی حفاظت کی جائے گی اور بلوچستان پر اٹھنے والی ہر انگلی کاٹ دی جائے گی، ہر آنکھ نکال لی جائے گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہاکہ دہشتگرد جان لیں کہ خون کی ایک ایک بوند کا بدلہ لیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پوری قوم پرعزم ہے اور دہشتگردی کو شکست دے کر دم لے گی۔ دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے والے دہشتگرد کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد جہنم کا ایندھن ہیں اور ان دہشتگردوں کا نہ دین سے کوئی تعلق ہے اور نہ بلوچ قومیت سے، یہ محض غدار ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پنجاب سمیت پورے پاکستان کے عوام بلوچستان کے محب وطن عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور انہیں مکمل تعاون فراہم کریں گے۔
انہوں نے کہاکہ قرآن و سنت میں ملک و قوم کے ساتھ بغاوت کرنے والوں کو سخت ناپسند کیا گیا ہے۔
مریم نواز نے سوال اٹھایا کہ بے گناہ عوام، عورتوں اور بچوں پر حملہ کرنے والا کیا مسلمان ہو سکتا ہے؟ انہوں نے کہاکہ حضرت محمد ﷺ نے جنگ کے دوران بھی عورتوں، بچوں اور بے گناہ لوگوں پر حملے سے منع فرمایا ہے۔
مزید پڑھیں: دہشت گرد بلوچوں کو ایندھن بنا رہے ہیں، پاکستان کا ایک انچ نہیں لے سکتے، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہاکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کی کھلم کھلا نفی کرنے والے مسلمان نہیں کہلا سکتے۔ فتنہ الہندوستان کے پروردہ دہشتگرد جہنمی ہیں اور ان کے لیے دنیا اور آخرت میں بربادی یقینی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان دہشتگردی سیکیورٹی فورسز مریم نواز وزیراعلٰی پنجاب وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان دہشتگردی سیکیورٹی فورسز مریم نواز وی نیوز مریم نواز نے کہاکہ انہوں نے
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔