سینٹ پیٹرزبرگ(ویب ڈیسک)روس میں آسمان پر دلکش فلکیاتی مظہر دیکھنے میں آیا ہے، جہاں آسمان پر چاند کے چار عکس ایک ساتھ نظر آئے۔

روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں اتوار کی رات آسمان میں ایک غیر معمولی اور دلکش منظر دیکھا گیا ہے، جب آسمان پر چاند کے ساتھ تین مزید روشن دھبے نمودار ہوئے اور یوں محسوس ہوا جیسے آسمان پر چار چاند موجود ہوں۔

ماہرینِ فلکیات کے مطابق سینٹ پیٹرزبرگ میں نظر آنے والا یہ حیران کن منظر ’پیراسیلین‘ کہلاتا ہے، جسے عام زبان میں ’فرضی چاند کہا جاتا ہے۔

 

ماہرین کے مطابق یہ نایاب منظر اس وقت دیکھنے میں آتا ہے جب سرد موسم میں چاند کی روشنی فضا کے اندر موجود برف کے ننھے ذرات سے گزرتی ہے۔ یہ ذرات روشنی کو مخصوص زاویے پر موڑ دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں چاند کے اطراف اضافی روشن دھبے نظر آنے لگتے ہیں اور یوں لگتا ہے جیسا آسمان پر کئی چاند موجود ہیں۔

پیراسیلین عموماً چاند سے تقریباً 22 ڈگری یا اس سے زیادہ فاصلے پر دکھائی دیتے ہیں۔ یہ اصل چاند کے مقابلے میں کہیں زیادہ مدھم ہوتے ہیں اور اس وقت زیادہ واضح نظر آتے ہیں جب چاند افق کے قریب ہو، کیونکہ اس صورت میں چمک کم ہو جاتی ہے اور اس وقت انہیں با آسانی دیکھا جا سکتا ہے۔

فلکیاتی ادارے اسکائی بریری کے مطابق یہ روشن دھبے ہمیشہ اُفق کے اوپر چاند کی ہی سطح پر نمودار ہوتے ہیں۔ ان کی عمودی شکل اور جسامت کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ بادلوں میں موجود برفانی ذرات کس زاویے پر موجود ہیں اور کس حد تک حرکت کر رہے ہیں۔ بڑے برفانی ذرات عموماً زیادہ لمبے اور نمایاں روشنی کے ستون بناتے ہیں، جس سے یہ منظر مزید ڈرامائی صورت اختیار کرلیتا ہے۔

اگرچہ پیراسیلین کا تعلق دن کے وقت نظر آنے والے سن ڈاگز سے ہوتا ہے، تاہم ایک ہی وقت میں کئی فرضی چاند دکھائی دینا نہایت کم ہوتا ہے۔ سینٹ پیٹرزبرگ کا یہ منظر اسی وجہ سے منفرد رہا کہ بیک وقت متعدد پیرسیلین نظر آئے اور آسمان پر چار چاند ہونے کا تاثر پیدا ہوا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے