جماعت اسلامی کے’’ جینے دو کراچی مارچ‘‘ میں لاکھوں مرد و خواتین کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:سندھ حکومت کی مجرمانہ غفلت و بے حسی، کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کی حق تلفی، سنگین مسائل اور شہر کی ابتر حالت کے خلاف اتوار کو شارع فیصل پر عظیم الشان اور تاریخی ”جینے دو کراچی مارچ“ منعقد ہوا،مارچ میں لاکھوں مردو خواتین، نوجوان، بزرگ، بچے، ڈاکٹرز، انجینئرز، وکلاء، علماء کرام، اساتذہ کرام، طلبہ و طالبات، صحافی، مزدورو تاجروں سمیت مختلف طبقات اور شعبہ زندگی سے وابستہ افراد نے اہل کراچی کے حق اور مسائل کے حل کے لیے جوق در جوق شرکت کی۔
کراچی کی شارع فیصل ”جینے دو کراچی کو، نہ وفاق نہ صوبہ حل صرف با اختیار کراچی سٹی حکومت،وزیر اعلیٰ استعفیٰ دو، قابض میئر کرسی چھوڑو“کے نعروں سے گونج اُٹھی، مارچ کراچی کے مسائل اور ایشوز پر اہل کراچی کا ترجمان ثابت ہوا، شرکاء نے سانحہ گل پلازا، حکومتی نااہلی و مجرمانہ غفلت، ڈمپر و ٹینکر سے ہلاکتیں، اسٹریٹ کرائمز، انفرااسٹرکچر کی تباہ حالی اور کراچی کے دیگر مسائل کے حوالے سے شاہراہ فیصل پر زبردست احتجاج ریکارڈ کروایا،٭ نرسری بس اسٹاپ سے تاحد نگاہ شرکاء کے سر ہی سرنظر آرہے تھے۔
جینے دو کراچی مارچ میںلاکھوں شرکاء نے مثالی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔شارع فیصل پر دونوں اطراف مارچ کے شرکاء موجود تھے ایک ٹریک مردوں اور دوسرا ٹریک خواتین کے لیے مختص تھا۔خواتین کے ساتھ چھوٹے اور ننھے منے بچے بھی بڑی تعداد میں شریک تھے۔ شرکاء شہر بھر سے جلوسوں اور ریلیوں کی شکل میں بسوں،ویگنوں، سوزوکیوں،ٹرکوں،کاروں اور موٹر سائیکلوں پرشارع فیصل پہنچے۔شاہراہ فیصل پر سڑک کے دونوں طرف خواتین اور مردوں کے لیے الگ الگ استقبالیہ کیمپ لگے ہوئے تھے۔جبکہ الخدمت کراچی کی جانب سے طبی کیمپ اورشاہراہ فیصل پر کئی موبائیل ڈسپنسریاں بھی موجود تھیں۔
شارع فیصل نرسری بس اسٹاپ پر بالائی گزر گاہ کے اوپر اسٹیج بنایا گیا تھا جہاں سے قائدین نے خطاب کیا۔ اسٹیج پر ایک بڑا بینرز لگا ہوا تھا۔جس پر جلی حروف پر تحریر تھاکہ جینے دو کراچی کو۔اسٹیج کے دائیں جانب نہ وفاق نہ صوبہ حل صرف بااختیار شہری حکومت اوربائیں جانب Karachi city govt, Tha only solution تحریر تھا۔ اسٹیج پر قومی پرچم اور جماعت اسلامی کے جھنڈے بھی لگائے گئے تھے۔
امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کی قیادت میں مارچ کا آغاز بلوچ کالونی پل سے ہوا اور شرکاء پیدل مارچ کرتے ہوئے نرسری بس اسٹاپ پر پہنچے۔ جینے دو کراچی مارچ میں قائدین کی تقاریر سننے کے لیے بڑے پیمانے پر ساؤنڈ سسٹم کا انتظام کیا گیا تھا۔جینے دو کراچی مارچ کی کوریج کے لیے قومی وبین الاقوامی پرنٹ والیکٹرانک میڈیا اور نیوز ایجنسیوں کے نمائندے فوٹو گرافر وں اور کمرہ مینوں کی بڑی تعداد اورDSNGگاڑیاں موجود تھیں،صحافیوں کے لیے پریس گیلری بنائی گئی تھی جبکہ سوشل میڈیا کا علیحدہ کیمپ بھی قائم کیا گیا تھا۔
جینے دو کراچی مارچ کا باقاعدہ آغاز قاری منصوری کی تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔جبکہ نعمان شاہ نے نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پر نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ جینے دو کراچی مارچ کے دوران وقفے وقفے سے اسٹیج پر سے پرجوش نعرے لگوائے جاتے رہے اور جینے دو کراچی کو اور حق دو کراچی کو ترانے سنائے جاتے رہے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اسٹیج آمد پر ان کا بھرپور خیر مقدم کیا گیا اور پرجوش نعرے لگائے گئے۔قائدین نے ہاتھ اُٹھاکر شرکاء کے نعروں کا جواب دیا۔تیز ہو تیز ہو جدوجہد تیز ہو۔ گلیوں اور بازاروں میں جدوجہد تیز ہو، مسجد میں محرابوں میں جدوجہد تیز ہو،کے نعرے لگائے جس پر کراچی کے عوام نے ایک زبان ہوکر جواب دیا۔ شرکاء نے پرجوش انداز میں جواب دیا۔
جماعت اسلامی کراچی کے حافظ نعیم الرحمن کی دعا پر مار چ کا اختتام ہوا ۔ جینے دو کراچی مارچ میں شرکاء نے سندھ حکومت کی نااہلی و ناقص کارکردگی کے خلاف پرجوش نعرے لگائے ”جینے دو کراچی مارچ“میں ناظمہ صوبہ سندھ رخشندہ منیب، ناظمہ کراچی جاوداں فہیم، سابقہ سیکرٹری جنرل پاکستان دردانہ صدیقی، نائب ناظمات کراچی فرح عمران، شیبا طاہر، ہاجرہ عرفان، سمیہ عاصم، معاون کراچی سمیہ اسلم، فرحینہ نعیم، رہنما جماعت اسلامی ڈاکٹر شمائلہ نعیم،نزہت منعم،سیکریٹری اطلاعات پاکستان فریحہ اشرف، سیکریٹری اطلاعات کراچی ثمرین احمد و سٹی کونسلرز کراچی میٹرو پولیٹن موجود تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جینے دو کراچی مارچ میں جماعت اسلامی دو کراچی کو شارع فیصل شرکاء نے کراچی کے فیصل پر کیا گیا کے لیے تیز ہو
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔