ایپسٹن جنسی اسکینڈل؛ سلوواکیا کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر مستعفی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
PRAGUE:
سلوواکیا کے مشیر قومی سلامتی میروسلیو لیجیک نے بدنام زمانہ ایپسٹن جنسی اسکینڈل کے معاملے پر استعفیٰ دے دیا تاہم کسی قسم کے غلط کام کے تاثر کو رد کردیا۔
غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق سلوواکیا کے وزیراعظم رابرٹ فیکو کے مشیر قومی سلامتی نے جیفری ایپسٹن اسکینڈل سے متعلق نئے فائلز سامنے آنے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور مذکورہ ای میلز میں لڑکیوں سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
سلوواکیا کے مشیر قومی سلامتی میروسلیو لاجچاک نے جاری بیان میں کسی قسم کے غلط کام کے تاثر کو رد کیا اور ایپسٹن جرائم کی مذمت کی۔
ایپسٹسن اسکینڈل کی نئی فائلز میں جاری ای میلز کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ان جملوں کا تبادلہ عام اور غیررسمی تھا اور اس کا کسی عملی کام سے تعلق نہیں ہے لیکن استعفیٰ دوں گا تاکہ اس صورت حال کو وزیراعظم پر حملوں کے لیے استعمال نہ کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ میں اپنے کسی مجرمانہ کام یا غیراخلاقی اقدامات کی وجہ سے نہیں بلکہ میں نہیں چاہتا کہ وزیراعظم فیکو کو ایک ایسے کام کی سیاسی قیمت چکانی پڑے جس کا ان کے فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
سلوواکیا کے وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ انہوں نے مشیر قومی سلامتی میروسلیو لاجچاک کا استعفیٰ قبول کرلیا ہے اور کہا کہ وہ سفارت کاری اور خارجہ پالیسی میں انتہائی شان دار تجربے کے حامل ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی محکمہ انصاف نے جمعے کو ایپسٹن فائلز سے متعلق لاکھوں مواد جاری کردیا تھا، جس میں اکتوبر 2018 میں کیا گیا ای میلز کا تبادلہ بھی شامل ہے اور اس وقت میروسلیو لاجچاک سلوواکیا کے وزیرخارجہ تھے۔
میروسلوف لجچاک سلوواکیا کے مشہور سیاست دان، سفارت کار ہیں اور دو مرتبہ 2009 سے 2010 اور 2012 سے 2020 تک ملک کے وزیرخارجہ رہے ہیں، اسی طرح اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سابق صدر ہیں اور انہوں نے ستمبر 2017 سے ستمبر 2018 تک بطور صدر فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مشیر قومی سلامتی انہوں نے
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔