زندگی کی خاص بات موت اور زندگی کا کھیل ہے ۔ زندگی اور موت کا یہ کھیل اربوں سال سے جاری ہے ۔ جاندار پیدا ہوتے ہیں اور مر جاتے ہیں ۔ لیکن مرنے سے پہلے یہ جاندار اپنے جیسے ہی جاندار پیدا کر لیتے ہیں ۔ اس کھیل میں زندگی موت سے مسلسل جیت رہی ہے ۔ زندہ رہنا آسان کام نہیں ہے ۔ زندہ چیزوں کو زندہ رکھنے کے لیے ان کے جسم مسلسل کام کرتے ہیں ۔ ایک ایک خلیے میں ہزاروں کیمیکل ری ایکشن ہورہے ہوتے ہیں ۔ دل ، جگر ، پھیپھڑے ، گردے اور دماغ کے کام اتنے پیچیدہ ہیں کہ صدیوں کی ریسرچ کے بعد بھی انسان انھیں مکمل طور پر سمجھ نہیں پایا ۔ زندگی کا کام ایسا ہے جو اکیلے بندے کا کام نہیں ہے ۔ یہ دو جاندار مل کر آپس میں ایک جوڑا بناتے ہیں ۔ اسے نراور مادہ کہتے ہیں ۔
ایک واحد جاندار کے لیے بغیر کسی ساتھی کے ری پرڈیوس کرنا ناممکن نہیں ہے ۔ مثال کے طور پر بیکٹریا فنگس اور دیگر اقسام میں اس طرح کی افزائش کو A-Sexual پروڈکشن کہتے ہیں ۔ تاہم زیادہ تر جانداروں میں ری پروڈکشن کا عمل نر اور مادہ کے جوڑوں کی شکل میں مکمل ہوتا ہے ۔ جانوروں کی 99فیصد اقسام اسی طرح سے بچے پیدا کرتی ہیں۔ پودوں کی بھی 80فیصد اقسام اسی طرح نراور مادہ کے درمیان جنسی ری پروڈکشن کی شکل کے ذریعے پیدا ہوتی ہیں ۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر زندگی کی افزائش میل اور فی میل کے جوڑے بنائے بغیر بھی ہو سکتی تھی تو پھر فطرت میں زیادہ تر جاندار جوڑوں کی شکل میں کیوں ہوتے ہیں ۔ یہ سوال اس وقت اور بھی زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ میل اور فی میل کے درمیان جو فرق ہے وہ صرف ری پروڈکشن سسٹم تک ہی محدود نہیں ہے ۔ نر اور مادہ کی جسمانی ساخت ، جلد ، بال ، آواز اور مسلز میں ان گنت فرق ہوتے ہیں۔ انسانوں میں تو یہ فرق اتنا واضح ہے کہ ہم پر یہ کہاوت فٹ بیٹھتی ہے کہ مرد اور عورت دو سیاروں کی مخلوق ہیں ۔
لیکن اسی فرق کی بنیاد پر دو مختلف انسان محبت اور سکون کے رشتے میں جُڑ جاتے ہیں ۔ اس رشتے کی کوکھ سے نہ صرف اولاد پیدا ہوتی ہے بلکہ موسیقی ، شاعری ، رقص اور آرٹ بھی جنم لیتے ہیں ۔ تو سوال یہ ہے کہ اس بے رنگ زندگی میں یہ تمام بیل بوٹے کس نے لگائے اور کس لیے لگائے ۔ نیچر کے قوانین کے لیے ہاضمہ ،نظام تنفس کی طرح ری پروڈکشن کا کام ایک ہی جسم انجام دے دیتا تو سب کام اکیلے ہی ہو سکتے ہیں تو اگلی نسل بڑھانے کے لیے ایک ساتھی کی ضرورت کیوں پیش آگئی۔ نیچرل سلیکشن کی کیا ایسی مجبوری تھی کہ ارتقائی عمل کے نتیجے میں زیادہ تر جاندار میل اور فی میل میں ڈھل گئے ۔ کیا زندگی کے اس حسن کے پیچھے کسی محبت کرنے والے خالق کی ڈیزائننگ کا ہاتھ ہے ؟
اس سوال کا جواب جاننا نہ صرف سائنسی لحاظ سے ضروری ہے بلکہ اس کے ذریعے آپ مرد اور عورت کی فطرت اور ان کے مزاج کو سمجھ سکتے ہیں۔ اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ عورتوں کا استحصال کہاں سے شروع ہوتا ہے ۔ Faminism مطالبات کی حقیقت کیا ہے ۔ اپنی فطرت میں مرد پولی گیمس کیوں ہوتے ہیں اور عورتیں مونو گیمس کیوں ہوتی ہیں ۔ عورتیں دل کی بات سیدھے لفظوں میں کیوں نہیں کہتی ہیں اور مرد عورت کو کیوں نہیں سمجھ پاتے ۔ صرف اسی فرق کی وجہ سے ۔آئیے ارتقاء کی حیرت انگیز سائنس کے ذریعے ان تمام سوالوں کے جواب سمجھتے ہیں ۔ میل اور فی میل کے بغیرہونے والی پیدائش کو A-Sexual ری پروڈکشن کہا جاتا ہے ۔ ری پروڈکشن کا یہ طریقہ بہت تیز رفتارہوتا ہے ۔
اس کے ذریعے پاپولیشن کو بہت تیزی سے بڑھایا جاتا ہے ۔ لیکن اس میں بہت بڑی خامی ہے کہ تمام جاندار ایک جیسے ہوتے ہیں ۔ اگر جاندار ایک جیسے ہوں تو ان پر بیماریوں اور ماحول کی تبدیلیوں کا اثر ایک جیسا ہوگا۔ یعنی موت کا ایک ہی روپ پوری آبادی کو ختم کرنے کے لیے کافی ہوگا ۔لیکن اگر موت کو چکمہ دینا ہے تو زندگی کے لیے اپنا روپ بدلنا بہت ضروری ہے ۔ روپ بدلنے کا یہ کام میل فی میل جوڑوں کے ملاپ کے ذریعے ری پروڈکشن میں ہوتا ہے ۔ بیکٹریا زندگی کی سادہ ترین شکل ہے ۔
بیکٹریا کی خاص بات یہ ہے کہ وہ قدرتی موت نہیں مرتے یعنی بوڑھے نہیں ہوتے ۔ایک ننھا بیکٹریاصرف 20منٹ میں کھا پی کر جوان ہوجاتا ہے۔ اگر حالات ساز گار ہوں تو ایک بیکٹریا 10گھنٹے میں ایک ارب بیکٹریا بنا سکتا ہے ۔ لیکن ایک جان لیوا وائرس بیکٹریا کی تمام آبادی کو ختم کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے ۔ میل اور فی میل کی ارتقاء کی اس کہانی کو ہم خزانے اور چور کی کہانی کہہ سکتے ہیں ۔
انسانوں میں ایگ سیل عام آنکھ سے دکھائی نہیں دیتا ۔ لیکن اس کے باوجود ایگ سیل کا والیوم سپرم کی نسبت ایک لاکھ گنا زیادہ ہوتا ہے ۔ بچے کی خوراک میں میل سپرم کوئی حصہ نہیں ڈالتے ۔ انسانوں میں خوراک کی تمام ذمے داری ایگ سیل کی ہوتی ہے ۔ عورتوں کا استحصال دراصل یہیں سے شروع ہو جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میل اور فی میل ری پروڈکشن کے ذریعے اور مادہ ہوتے ہیں سکتے ہیں نہیں ہے جاتا ہے ہوتا ہے کے لیے
پڑھیں:
والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔
دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاقکمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے
واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔
نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگنئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔
میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔
الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی’میٹا‘ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔
یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔
’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرولسوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔
یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین