پولیو کے خاتمے کیلیے مسلسل محنت اورایماندار کی ضرورت ہے، یوسف شیخ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مٹیاری (نمائندہ جسارت)ڈپٹی کمشنر مٹیاری محمد یوسف شیخ نے کہا ہے کہ پولیو کے خاتمے کے لیے مسلسل محنت، ایمانداری اور مشترکہ حکمتِ عملی کی ضرورت ہے، اور ماضی میں بہترین کارکردگی دکھانے والے افسران اور عملہ دوسروں کے لیے مثال ہیں۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلائیں تاکہ ایک صحت مند مستقبل کو یقینی بنایا جا سکے۔ضلعی انتظامیہ مٹیاری کی جانب سے آئندہ پولیو نیشنل امیونائزیشن ڈیز (NIDs) فروری 2026 کے حوالے سے ایک آگاہی ریلی نکالی گئی، جو تعلقہ ہیڈکوارٹر اسپتال سے پریس کلب تک گئی۔ ریلی کی قیادت ڈپٹی کمشنر مٹیاری محمد یوسف شیخ نے کی، جبکہ ان کے ہمراہ ضلع کے مختلف محکموں کے افسران، سرکاری عملہ اور سول سوسائٹی کے نمائندے بھی شامل تھے۔ریلی کے بعد ڈپٹی کمشنر سیکریٹریٹ مٹیاری کے لطیف ہال میں تیاریوں سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت ڈپٹی کمشنر مٹیاری نے کی۔ اجلاس میں ضلعی ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر آصف حسین شاہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر-II مٹیاری اقرا جنت، اسسٹنٹ کمشنر مٹیاری عبد الستار شیخ، اسسٹنٹ کمشنر ہالا ڈاکٹر مظاہر برڑو، اسسٹنٹ کمشنر سعید آباد عبدالشکور سولنگی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نذیر ملاح سمیت محکمہ صحت کے افسران، دیگر متعلقہ محکموں کے نمائندے اور سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران محکمہ صحت کے نمائندے نے پولیو مہم کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ پولیو NIDs دو فروری سے پانچ فروری تک جاری رہیں گی۔ مہم کے دوران ضلع مٹیاری میں ایک لاکھ اکیاسی ہزار سات سو بائیس بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کمشنر مٹیاری ڈپٹی کمشنر پولیو کے
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔