کوئٹہ (نیوزڈیسک)نوشکی کے ڈپٹی کمشنر محمد حسین اور اسسٹنٹ کمشنر ماریہ شمعون بازیاب ہوگئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق دونوں افسران کو بحفاظت ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

گزشتہ روز نوشکی میں دہشتگردوں کے منظم حملوں کے دوران ڈپٹی کمشنر محمد حسین ہزارہ اور اسسٹنٹ کمشنر ماریہ شمعون کو ان کی رہائش گاہ سے اغواء کر لیا گیا تھا، جس کے بعد علاقے میں ان کی بازیابی کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا تھا۔

پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے مطابق بازیابی کے بعد دونوں افسران کی سکیورٹی اور طبی جانچ کی جا رہی ہے، جبکہ واقعے سے متعلق مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی پریس کانفرنس کےدوران کہا کہ گزشتہ روز دہشتگردوں کے ساتھ مقابلے میں 17 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے جبکہ 145 دہشتگردوں کی لاشیں ہمارے پاس موجود ہیں،رپورٹس ہیں دہشتگردوں کیساتھ افغان شہری بھی شامل ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس پہلے سے انٹیلی جنس رپورٹس موجود تھیں،جس کے باعث حملوں سےایک دن قبل ہی آپریشن شروع کردیاگیا تھا، 40 گھنٹوں کے دوران 145 دہشت گردہلاک کیےگئے، حملوں میں 31 شہری شہید اورکچھ زخمی بھی ہوئے،پورے سال کے دوران مختلف کارروائیوں میں 1500 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ نےکہا ایک دن پہلے شعبان اور پنجگور میں 40 دہشتگرد مارےگئےتھے،اس وجہ سےکوئٹہ کےشمال مشرق کی جانب سے حملہ نہیں ہوا، پنجگور میں بھی ایک دن پہلے آپریشن کی وجہ سے حملہ نہیں ہوا، سیکیورٹی فورسز چوکس تھیں اس لیے اتنا بڑا حملہ ناکام بنایا،آپریشن کے لیے بلوچستان کا کوئی گاؤں خالی نہیں کرایا گیا جبکہ فرار دہشت گردوں کے تعاقب کے لیے آپریشن جاری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد

مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔

ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔

واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔

پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان