سفر کے دوران متلی اور قے کیوں آتی ہے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اکثر لوگوں کے ساتھ ناہموار راستوں اور اونچے نیچے پہاڑی علاقوں کے سفر کے دوران ایسا زیادہ ہوتا ہے جبکہ کچھ لوگوں کو ہوائی جہاز اور پانی کے سفر کے دوران بھی ایسی کیفیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اگر آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے تو یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ ماہرین کے مطابق دنیا میں ہر تین میں سے ایک شخص کے ساتھ ایسا ہوتا ہے اور اسے موشن سکنس (حرکت کی وجہ سے ہونے والی بیماری) کہتے ہیں۔جب ہم سفر کرتے ہیں تو ہمارے دماغ کو دراصل آنکھوں اور کانوں سے مختلف سگنل وصول ہو رہے ہوتے ہیں۔ جب آپ گاڑی یا بس میں سفر کے دوران نیچے دیکھ رہے ہوتے ہیں یا کوئی کتاب پڑھ رہے ہوتے ہیں تو آپ کی آنکھیں دماغ کو سگنل بھیجتی ہیں کہ آپ ایک جگہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ ’لیکن آپ کے کانوں میں موجود توازن کا نظام دماغ کو بتاتا ہے کہ آپ کا جسم حرکت کر رہا ہے۔ یہ سگنلز جسم کو یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ شاید کوئی زہریلا مواد آپ کے جسم میں داخل ہو گیا ہے اور آپ کے جسم کو معلوم ہے کہ اس سے کیسے نمٹنا ہے۔‘اس سے بچنے کا ایک طریقہ کھڑکی سے باہر دور دیکھتے رہنا ہے۔ اس سے آپ کی آنکھوں اور کانوں سے دماغ کو پہنچنے والے سگنلز کو تال میل میں لانے میں مدد ملتی ہے جس سے موشن سکنس میں کمی آتی ہے۔جو لوگ بھاری کھانا کھا کر سفر کرتے ہیں انھیں قے آنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، اس لیے ڈاکٹرز سفر سے پہلے ہلکا کھانا کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔چلتی گاڑی میں پڑھنے سے موشن سکنس میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سفر کے دوران ہوتا ہے دماغ کو
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔