جیفری ایپسٹین فائلز میں مودی کا نام بھی شامل‘ کانگریس کی کڑی تنقید
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا میں بدنام زمانہ جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین فائلز میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا نام بھی سامنے آگیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بدنام زمانہ جیفری ایپسٹین کے ساتھ مودی کے تعلق کو بھارت کے لیے انتہائی شرمناک قرار دیا ہے۔کانگریس کے مطابق ایپسٹین نے ای میل میں واضح لکھا ہے کہ مودی نے اس سے مشورہ لیا اور اسرائیل گئے، ایسپٹین نے لکھا کہ مودی نے اسرائیل میں امریکی صدر کے فائدے کے لیے ناچ گانا کیا۔ کانگریس نے بتایا کہ وزیراعظم مودی نے 4 سے 6 جولائی 2017ء تک اسرائیل کا دورہ کیا تھا، ایسپٹین کی ای میل مودی کے دورہ اسرائیل کے 3 روز بعد لکھی گئی، اسرائیل کے دورے سے پہلے جون 2017ء میں مودی نے امریکا میں ٹرمپ سے ملاقات کی تھی، اس سے واضح ہو گیا کہ مودی کا جیفری ایپسٹین کے ساتھ گہرا اور پرانا تعلق ہے۔ بھارتی اپوزیشن جماعت نے کہا کہ یہ قومی وقار، بین الاقوامی ساکھ کا معاملہ ہے جس پر مودی کو جوابدہ ہونا چاہیے، مودی بتائیں کہ وہ جیفری ایپسٹین سے کس قسم کا مشورہ لے رہے تھے؟ مودی اسرائیل میں کیوں ناچے گائے؟ اس سے ٹرمپ کو کیا فائدہ ہوا؟ ایپسٹین نے مودی کے دورے کو کامیاب لکھا اس کا کیا مطلب ہے؟ قوم جاننا چاہتی ہے جیفری ایپسٹین کے ساتھ آپ کا کیا رشتہ ہے؟۔دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایپسٹین فائلز میں نریندر مودی اور ان کے اسرائیل کے دورے کا ذکر کرنے والے ای میل پیغام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم مودی کا جولائی 2017ء میں اسرائیل کا سرکاری دورہ حقیقت ہے لیکن ای میل میں باقی تمام مبہم حوالے ایک سزا یافتہ مجرم کے فضول خیالات ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جیفری ایپسٹین مودی کا
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔