Jasarat News:
2026-06-02@20:44:14 GMT

کراچی: وفاقی قبضے کی سازش اور ایم کیو ایم کا نیا فتنہ

اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی کی تاریخ اور موجودہ صورتحال یہ بتاتی ہے کہ کراچی کے حالات ترقی کی الٹی منزلیں طے کر رہے ہیں یعنی کراچی روز بروز زوال پذیر ہوتا جا رہا ہے۔ کراچی کو پاکستان کا معاشی دارالحکومت کہا جاتا ہے۔ ایک ایسا شہر ہے جو ملک کی قومی آمدنی اور محصولات کا 80 فی صد فراہم کرتا ہے۔ یہ شہر، جو کبھی پورے خطے کا مثالی مرکز تھا، آج کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے۔ اس بربادی کی سب سے بڑی ذمے دار متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) ہے، جس کے رہنماؤں فاروق ستار، مصطفی کمال اور وسیم اختر نے لندن میں موجود اپنے قائد الطاف حسین کے احکامات پر بھتا خوری کرتے ہوئے کراچی کو کنکریٹ کا جنگل بنا دیا۔ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (بی سی اے) کے قوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے ’’چائنا کٹنگ‘‘ کے ذریعے ناجائز عمارتیں کھڑی کی گئیں، کچی آبادیوں کو پھیلایا گیا، اور افغانیوں، بنگالیوں، سرائیکیوں کو غیر قانونی طور پر آباد کیا گیا۔ انہی ناجائز بستیوں میں دہشت گردوں کو پناہ دی گئی، جس نے شہر کو دہشت گردی کا گڑھ بنا دیا۔ اور ایم کیو ایم نے ہمیشہ یہ تاثر دیا کہ فوج ان کی سرپرستی کر رہی ہے بلکہ یہ تاثر جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں یقین کی شکل میں تبدیل ہو گیا اب بھی ایم کیو ایم یہی تاثر دینے میں کامیاب ہے، یہ وضاحت تو ڈی جی آئی ایس پی آر کریں گے کہ فوج ایم کیو ایم کی سرپرستی کر رہی ہے یا نہیں۔ بدقسمتی سے پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے بھی ان ناجائز کاموں کو برقرار رکھا جن کی بنیاد ایم کیو ایم نے رکھی تھی، اور پیپلزپارٹی اختیارات کے باوجود کراچی کی بحالی نہ کرسکی۔ حال ہی میں وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ کے فتنہ انگیز رکن مصطفی کمال نے کراچی کو ’’وفاق کے حوالے‘‘ کرنے کا مطالبہ اٹھایا ہے، جو پہلے بھی اس فتنے کو ہوا دے چکے ہیں۔ یہ مطالبہ ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ن) کے خفیہ معاہدے کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد کراچی کے محصولات پر براہ راست کنٹرول حاصل کیا جائے۔ یہ شہر کے عوام کی آواز دبانے اور معاشی استحصال کی نئی کوشش ہے۔

ایم کیو ایم کی لوٹ مار کی داستان: ایم کیو ایم کے دورِ اقتدار میں کراچی کی ترقیاتی منصوبے الطاف حسین کی ہدایت پر روکے گئے۔ فاروق ستار، مصطفی کمال اور وسیم اختر جیسے رہنماؤں کو شہر پر مسلط کیا گیا، جو انتخابی دھاندلیوں سے اقتدار میں آئے۔ انہوں نے کراچی سرکلر ریلوے کو ’’بوجھ‘‘ قرار دے کر بند کرا دیا۔ تاکہ سرکلر ریلوے کے دائرے میں آنے والی زمینوں پر قبضہ کیا جا سکے اور ایسا ہی ہوا سرکولر ریلوے کی ساری زمین چائنا کٹنگ میں آگئی۔ ایک زمانے میں مسلم لیگ (ن) نے اس کی مخالفت کی تھی اور فاروق ستار نے تائید کی۔ ریلوے کی قیمتی زمینیں چائنا کٹنگ میں لا کر ناجائز عمارتوں کو دے دی گئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج کراچی ٹرانسپورٹ کے بحران سے دوچار ہے، جہاں ٹریفک جام، ناکارہ بسوں اور خالی سڑکوں کا راج ہے۔ آج شہر میں سب سے بڑا مسئلہ ٹرانسپورٹ کا ہے۔ ایم کیو ایم نے نہ صرف سرکلر ریلوے کو ختم کیا بلکہ سڑکوں کی تعمیر اور عوامی ٹرانسپورٹ کو بھی نظر انداز کیا۔ کچی آبادیاں پھیلائی گئیں، جن میں غیر قانونی تارکین وطن کو آباد کر کے ووٹ بینک بنایا گیا۔ ان بستیوں سے جرائم، نشہ بازی اور دہشت گردی کا سیلاب آ گیا۔ الطاف حسین کے دور میں ایم کیو ایم نے کراچی کو ’’اپنا قلعہ‘‘ بنایا، جہاں ہر ترقیاتی کام سیاسی مفادات کا شکار ہوا۔

پیپلز پارٹی، جو سندھ کی صوبائی حکومت چلا رہی ہے، نے بلدیہ پر اختیارات حاصل ہونے کے باوجود ایم کیو ایم کے ناجائز کاموں کو ختم نہ کیا۔ کچی آبادیوں کو قانونی تحفظ دیا گیا، ناجائز عمارتوں کو برقرار رکھا گیا، اور کراچی کی بحالی کی کوئی سنجیدہ کوشش نہ کی گئی۔ یہ خاموشی شہر کی بربادی میں پیپلز پارٹی کو حصہ دار بناتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے بھی، وفاقی سطح پر، کراچی کی بربادی میں اپنا رول ادا کیا۔ سندھ میں یہ عام شکایت ہے کہ محصولات کی تقسیم آبادی کی بنیاد پر ہوتی ہے، جبکہ پنجاب کم حصہ ڈالتا ہے مگر زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے۔ کراچی سے آنے والا 80 فی صد ریونیو سندھ کا حصہ ہے، جو وفاق چھین لیتا ہے اب اس پر کنٹرول بھی حاصل کرنا چاہتا ہے، وفاقی وزیر خزانہ اورنگزیب کہہ چکے ہیں کہ پاکستان میں سالانہ چار ارب ڈالر سے زیادہ کی بے قاعدگیاں ہیں انہوں نے لفظ بے قاعدگی استعمال کیا ہے۔ جبکہ یہ کرپشن اور مجرمانہ غفلت نہیں بلکہ دانستہ طور پر قومی خزانے پر ڈاکا ہے اور یہ بیوروکریٹک ڈاکا ہوتا ہے۔ یہ ساری رقم بیوروکریٹ استعمال کرتے ہیں جو رقم قومی خزانے میں جانی چاہیے تھی وہ بیوروکریٹس کی جیب میں جاتی ہے اور یہ قومی وسائل پر ڈاکا ہے۔ جو رقم کراچی کے تاجر یا کراچی کے لوگ محصولات کی شکل میں قوم کو دیتے ہیں اس پر بیوروکریٹس پر تعیش زندگی گزارتے ہیں ناجائز مراعات حاصل کرتے ہیں یعنی مفت بجلی، مفت پٹرول اور مفت علاج کی سہولتیں حاصل کرتے ہیں اور لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ اور کروڑوں روپے کے وسائل پر قابض ہیں۔ یہ ناانصافی کراچی شہر کو مزید کھنڈر بنا رہی ہے۔

گل پلازہ کی آگ اور سیاسی کشیدگی: گل پلازہ میں حالیہ آتش زدگی نے ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان کشیدگی کو عروج پر پہنچا دیا ہے۔ ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کو ’’کراچی کی تباہی‘‘ کا ذمے دار ٹھیرا رہی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی ایم کیو ایم پر ناجائز بستیوں اور دہشت گردی کی پناہ دینے کا الزام لگا رہی ہے۔ سوشل میڈیا اور بیان بازیوں میں دونوں جماعتیں ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ رہی ہیں۔ گل پلازہ کی آگ، جو ایم کیو ایم کے دور میں ناجائز تعمیرات کی وجہ سے پھیل گئی، نے شہر کی حفاظتی ناکامیوں کو بے نقاب کر دیا۔ ایم کیو ایم کا دعویٰ ہے کہ پیپلز پارٹی نے فائر بریگیڈ اور امدادی نظام کو کمزور کیا، جبکہ پیپلز پارٹی کہتی ہے کہ ایم کیو ایم کی چائنا کٹنگ نے شہر کو آگ کا شکار بنا دیا۔ یہ کشیدگی کراچی کے عوام کے لیے فائدہ مند نہیں۔ دونوں جماعتیں ایک دوسرے پر الزام تراشی کر کے شہر کے مسائل سے توجہ ہٹا رہی ہیں۔ گل پلازہ کی آگ میں متعدد جانی نقصانات ہوئے، اور متاثرین اب تک امداد کے منتظر ہیں۔ ایم کیو ایم کا وفاقی حوالے کا مطالبہ اسی تناظر میں ہے۔ وفاق کو قبضہ دے کر شہر کی محصولات پر ہاتھ صاف کرنا چاہتے ہیں۔

وفاقی قبضے کی سازش اور معاشی استحصال: مصطفی کمال کا مطالبہ کہ ’’کراچی کو وفاق کے حوالے کیا جائے‘‘، ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ن) کے خفیہ معاہدے کا حصہ ہے۔ کراچی کی 80 فی صد قومی محصولات وفاق براہ راست حاصل کرنا چاہتا ہے، جو آبادی کی بنیاد پر تقسیم ہوتی ہیں۔ پنجاب کم ٹیکس دیتا ہے مگر زیادہ حصہ لیتا ہے، جبکہ کراچی کی محنت ضائع ہو رہی ہے۔ یہ مطالبہ انتخابی دھاندلیوں سے مسلط کی جانے والی ایم کیو ایم کی نئی چال ہے، جسے کراچی والوں نے مسترد کر دیا ہے۔ وفاقی قبضہ کراچی کی خودمختاری ختم کر دے گا۔ شہر کی بلدیاتی خود مختاری چھن جائے گی، اور ترقیاتی بجٹ وفاقی مفادات کا شکار ہوگا۔ یہ شہر کے عوام کے لیے خطرناک سازش ہے۔ کراچی کے بنیادی مسائل یہ ہیں۔

ٹرانسپورٹ بحران: سرکلر ریلوے کی بحالی ضروری ہے۔ جسے ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ن) اور پرویز مشرف کی حکومت نے تباہ کیا، اب پیپلز پارٹی کو اسے دوبارہ شروع کرنا چاہیے۔ کچی آبادیاں: ناجائز بستیاں ختم کر کے قانونی ہاؤسنگ فراہم کی جائے۔ افغانیوں اور دیگر غیر قانونی قابضین کو واپس بھیجا جائے۔ چائنا کٹنگ: بی سی اے کو مضبوط بنا کر ناجائز عمارتوں کو ہٹایا جائے۔ دہشت گردی: ایم کیو ایم کی پناہ گاہوں کو صاف کیا جائے۔ محصولات کی تقسیم: کراچی کو اپنی آمدنی کا مکمل حق ملے، وفاقی استحصال ختم ہو۔ حل یہ ہے کہ کراچی کی بلدیہ کو مکمل اختیارات دیے جائیں، ایم کیو ایم جیسے فتنہ کاروں کو مسترد کیا جائے، اور پیپلز پارٹی اپنی ذمے داری نبھائے۔ عوام کو متحد ہو کر وفاقی قبضے کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ کراچی کی بیداری کا وقت آگیا ہے۔ کراچی کو کنکریٹ کا جنگل بنانے والی ایم کیو ایم، خاموش تماشائی پیپلز پارٹی اور وفاقی استحصال کرنے والے مسلم لیگ (ن) سے شہر کو نجات دلانی ہوگی۔ گل پلازہ کی آگ اور سیاسی جھگڑے شہر کی بربادی کی یاد دہانی ہیں۔ مصطفی کمال کا وفاقی مطالبہ فتنہ ہے، جسے عوام مسترد کردیں گے۔ کراچی پاکستان کا قلب ہے اسے بچانا ہر پاکستانی کی ذمے داری ہے۔

وجیہ احمد صدیقی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایم کیو ایم اور گل پلازہ کی ا گ ایم کیو ایم کی ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی سرکلر ریلوے مصطفی کمال چائنا کٹنگ مسلم لیگ کیا جائے کراچی کی کراچی کو کراچی کے شہر کو شہر کی رہی ہے

پڑھیں:

کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) کراچی میں یکم جون سے شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر فیس لیس چالان کے آغاز ہوگیا اور پہلے روز 11 گیٹیگریز کی سواریوں کے فیس لیس چالان ہوئے۔

نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق لین کی خلاف ورزی پر پہلے دن مجموعی طور پر 96 چالان ہوئے۔

بڑی بس 2، کوسٹر 2، ڈبل کیبن 1 اور گاڑی کے 9 چالان کیے گئے جبکہ منی بس 6، منی ٹرک 3 اور سوزوکی پک اپ کے 21 چالان ہوئے۔

اسی طرح موٹر سائیکل پر 43، ٹرک 3، وین 4 اور واٹر ٹینکر پر 2 چالان ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق تمام چالان اپنی لین سے ہٹ کر دوسری لین میں چلانے پر ہوئے، فرسٹ لین میں آہستہ چلانے پر بھی فیس لیس چالان کیا گیا۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

مزید :

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا