ماریشس کو چاگوس آئی لینڈزواپس ہونگے یا نہیں؟ ٹرمپ نے بھی برطانیہ کی بڑی حماقت قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسٹریٹیجک اعتبار سے انتہائی اہم جزیرہ نما ہاتھ سے جانے دینے کو امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے برطانیہ کی “بڑی حماقت” قرار دیے جانے کے بعد اس کے اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
برطانیہ کے وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے چاگوس آئی لینڈز کو ماریشس کے حوالے کرنے سے متعلق معاہدہ فی الحال روک دیا ہے۔
لیبر حکومت نے دارالامرا میں اس معاملے پر بحث مؤخر کرتے ہوئے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر یہ ڈیل مکمل طور پر ختم کی گئی تو یہ سر کیئر اسٹارمر کے دورِ حکومت کا پندرھواں یوٹرن ہوگا۔
چاگوس آئی لینڈز بحرِ ہند کے وسط میں واقع ایک اسٹریٹیجک جزیرہ نما ہے، جو ماریشس سے تقریباً 1,600 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے، جبکہ ماریشس ان جزائر کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔
پیرس معاہدے کے تحت برطانیہ نے 1814 میں ماریشس سمیت ان جزائر کا کنٹرول سنبھالا تھا۔ بعد ازاں 1965 میں سرد جنگ کے دوران امریکا اور برطانیہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت چاگوس آئی لینڈز کو ماریشس سے الگ کر دیا گیا۔
ان جزائر پر قبضے کے بعد انہیں “برٹش انڈین اوشن ٹیریٹری” کا نام دیا گیا، جبکہ مقامی آبادی کو مرحلہ وار بے دخل کر کے ماریشس منتقل کر دیا گیا۔
یہ تمام اقدامات اس کے باوجود کیے گئے کہ ماریشس نے 1968 میں برطانیہ سے آزادی حاصل کر لی تھی، تاہم برطانیہ نے چاگوس آئی لینڈز سے دستبرداری اختیار نہیں کی۔
1971 میں امریکا اور برطانیہ نے سوویت یونین کے خلاف حکمتِ عملی کے تحت ان جزائر کے علاقے ڈیگو گارشیا میں فوجی اڈہ قائم کیا، جو بعد ازاں عراق پر حملوں کے لیے بھی استعمال ہوتا رہا۔
ماریشس طویل عرصے سے ان جزائر کی واپسی کے لیے کوشاں ہے، جبکہ عالمی عدالت انصاف بھی برطانیہ سے مطالبہ کر چکی ہے کہ وہ چاگوس آئی لینڈز جلد از جلد ماریشس کو واپس کرے۔
مئی 2025 میں برطانیہ اور ماریشس کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت امریکا اور برطانیہ کو صرف ڈیگو گارشیا تک رسائی حاصل رہنا تھی، جبکہ باقی تمام جزائر ماریشس کے حوالے کیے جانے تھے۔
اس معاہدے کے مطابق ڈیگو گارشیا میں موجود فوجی اڈے تک 99 برس کے لیے رسائی کی لیز دی جانی تھی، جس کے عوض برطانیہ کو سالانہ 136 ملین ڈالر ماریشس کو ادا کرنا تھے۔
گزشتہ چند برسوں تک برطانیہ میں لیبر اور کنزرویٹو دونوں جماعتیں چاگوس آئی لینڈز کی واپسی کو ایک اخلاقی ذمہ داری تصور کرتی رہی ہیں۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدا میں اس معاہدے کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا تھا، تاہم اب انہوں نے اس حوالے سے اپنا مؤقف تبدیل کر لیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔