ٹرمپ کی ایران کے ساتھ معاہدے کی امید، خامنہ ای کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے کی امید ظاہر کی ہے جبکہ ایرانی سپریم لیڈر نے خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن نے حملہ کیا تو پورے خطے میں جنگ چھڑ جائے گی۔
ایرانی رہبر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ بالکل ایسا کہہ سکتے ہیں۔ ’ہم نے دنیا کے سب سے بڑے اور طاقتور جنگی جہاز وہاں بھیجے ہیں، بہت قریب ہیں، چند دنوں میں وہاں پہنچ جائیں گے۔‘
ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ امریکا کوئی معاہدہ کرلے گا۔ ’اگر معاہدہ نہیں ہوتا تو ہمیں پتا چل جائے گا کہ وہ درست تھے یا نہیں۔‘
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی پروازیں متاثر، عالمی ایئرلائنز الرٹ
انہوں نے کہا کہ اگر ایران کی حکومت سے بات چیت کی جائے تو ممکنہ طور پر یہ ایک قابل قبول معاہدہ ہو گا۔
صدر ٹرمپ نے ہفتے کی رات ایران کے قریب امریکی بحری جہازوں کی موجودگی پر بات کی اور ماضی میں ایران میں پرامن احتجاجی مظاہرین کو قتل کرنے پر فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔
اس پر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ اگر امریکا جنگ شروع کرتا ہے تو پورے خطے میں جنگ پھیل جائے گی، انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر جنگ شروع کی تو یہ ایک ’علاقائی جنگ‘ بن جائے گی۔
And, once the regional war begins the united state of America that hosts and/or is imperialism will find it ain't as powerful as it deems itself to be….
——–
???????? ???????? The Leader of Iran in a meeting with a large number of… pic.twitter.com/sbyCC621Sy
— Faramak Zahraie (@FaramakZahraie) February 2, 2026
ایرانی سپریم لیڈر نے امریکی دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اگر اس نے جنگ شروع کی تو اس کا اثر پورے خطے پر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ شروع نہیں کرتا، لیکن اگر امریکا ایران پر حملہ کرتا ہے تو ایرانی قوم جواب دے گی۔
جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ ایران پر ان کا حتمی فیصلہ کیا ہو گا تو انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا۔
ایران کے جنرل امیر حاتمی نے ایک پر عزم لہجے میں کہا کہ ایران کے فوجی اور دفاعی تیاری اس وقت انتہائی مستحکم ہیں اور وہ خطے میں دشمن کی تمام حرکات پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی، برطانیہ کا قطر میں ٹائفون جنگی طیارے تعینات کرنے کا فیصلہ
ایران کے پارلیمنٹ میں بھی جنگی لہجہ دیکھا گیا، جہاں اسپیکر نے کہا کہ یورپی یونین کی فوجیں اب ایران کی نظر میں دہشت گرد گروہ بن چکی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسی دوران ایران کے دارالحکومت تہران میں 2 دھماکے ہوئے، جن میں ایک دھماکہ بندر عباس میں ہوا، جس میں ایک بچی ہلاک اور 14 افراد زخمی ہوئے جبکہ دوسرے دھماکے میں 5 افراد کی ہلاکت کی خبر موصول ہوئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا آیت اللہ ایران بحری جہاز بندر عباس پارلیمنٹ تہران جنرل امیر حاتمی جنگ علی خامنہ ای مظاہرین یورپی یونین
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ا یت اللہ ایران بحری جہاز پارلیمنٹ تہران جنرل امیر حاتمی علی خامنہ ای مظاہرین یورپی یونین نے کہا کہ ایران کے خامنہ ای انہوں نے کہ ایران کہ اگر
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔