Islam Times:
2026-07-24@00:53:04 GMT

جائز حقوق کیلئے اسلام آباد کا رخ کریں گے، سہیل آفریدی

اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT

جائز حقوق کیلئے اسلام آباد کا رخ کریں گے، سہیل آفریدی

جمرود میں جلسپہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے واضح کیا کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلے کسی صورت قبول نہیں کیے جائیں گے اور اسلام آباد جا کر واضح طور پر کہا جائے گا کہ ایسے فیصلے نامنظور ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل افریدی نے کہا ہے کہ وہ اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے اسلام آباد کا رخ کریں گے اور اس سے قبل دیگر قبائلی اضلاع میں بھی مشاورتی جرگے منعقد کیے جائیں گے۔ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں منعقدہ گرینڈ امن جرگے سے خطاب میں سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ اسلام آباد جانے سے قبل دیگر قبائلی اضلاع میں بھی مشاورتی جرگے منعقد کیے جائیں گے تاکہ تمام متاثرہ علاقوں کی اجتماعی رائے سامنے آ سکے، جس کے بعد تمام قبائلی اضلاع کا ایک مشترکہ گرینڈ جرگہ منعقد کر کے حتمی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے واضح کیا کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلے کسی صورت قبول نہیں کیے جائیں گے اور اسلام آباد جا کر واضح طور پر کہا جائے گا کہ ایسے فیصلے نامنظور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے اور اپنے عوام کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور پوری دنیا کی دولت بھی ان کے ضمیر کا سودا نہیں کر سکتی۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ 2018 سے 2022 تک خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورت حال بہتر رہی، تاہم رجیم چینج آپریشن کے ذریعے بیرونی سازش کے تحت عمران خان کی منتخب حکومت کو ہٹایا گیا، جس کے بعد صوبے پر دوبارہ دہشت گردی مسلط کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے حالات کی خرابی سے خبردار کیا تھا مگر ان خدشات کو جھوٹ اور پروپیگنڈا قرار دیا گیا، حتیٰ کہ اس وقت کی وفاقی حکومت نے بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پہلے بتایا گیا کہ دہشت گرد پہاڑوں تک پہنچ چکے ہیں مگر کوئی کارروائی نہیں ہوئی، پھر آگاہ کیا گیا کہ وہ وادی میں اتر آئے ہیں لیکن کسی نے توجہ نہیں دی، بعد ازاں دہشت گرد گھروں تک پہنچ گئے اور بندوق کی نوک پر کھانا لینے لگے، اب لوگ جاتے تو کہاں جاتے اور کیا کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے میں سوال یہ نہیں کہ دہشت گردوں نے کھانا کیسے لیا بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ وہ گھروں تک پہنچے کیسے اور انہیں روکنے والی سیکیورٹی فورسز کہاں تھیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس کے بعد گھروں پر ڈرون حملے شروع ہوئے، تیراہ میں شہید ہونے والے معصوم شہریوں کو دہشت گرد بنا کر پیش کیا گیا، حتیٰ کہ ایک معصوم بچی کو شہید کیا گیا اور احتجاج کرنے والوں پر بھی فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں مزید قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور یہ تمام اقدامات ملٹری آپریشن کا راستہ ہموار کرنے کے لیے کیے گئے۔

محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی نشان دہی کی تھی کہ تیراہ میں آپریشن کے ذریعے ہمیں کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے حالانکہ علاقے میں برف باری متوقع تھی، مگر ان کی بات نہیں مانی گئی، بار بار منع کرنے کے باوجود تیراہ کے لوگوں کو زبردستی بے گھر کیا گیا اور جب بند کمروں کے فیصلے ناکام ہوتے نظر آئے تو پریس ریلیز کے ذریعے یہ تاثر دیا گیا کہ لوگ خود علاقہ چھوڑ رہے ہیں، یہ پریس ریلیز درحقیقت اپنے ہی اداروں پر عدم اعتماد کے مترادف ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کیے جائیں گے سہیل آفریدی اسلام آباد نے کہا کہ جائے گا کیا گیا

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم