بیرسٹر سلطان چوہدری کی نماز جنازہ؛ جسد خاکی گن کیرج پر لائے جانے والی پانچویں شخصیت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
آزاد جموں و کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری طویل علالت کے بعد اسلام آباد میں انتقال کرگئے، ان کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، جسدِ خاکی کو انتہائی اعلیٰ سرکاری اور فوجی اعزاز گن کیرج کے ساتھ جنازہ گاہ تک لایا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق آزادریاست جموں و کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری 71 سال کی عمر میں کینسر جیسے موذی مرض سے لڑتے لڑتے بالآخر داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔
ان کی نمازِ جنازہ قائداعظم اسٹیڈیم میرپور میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی جس میں کمانڈر راولپنڈی کور سمیت آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت، سرکاری حکام اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مرحوم کے جسدِ خاکی کو پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ اسٹیڈیم لایا گیا، جہاں پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی، جنازے کے بعد میت کو تدفین کے لیے ان کے آبائی گاؤں کھڑی شریف میرپور روانہ کردی گئی۔
زندگی پر ایک نظر
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری 25 اگست 2021ء کو آزاد جموں و کشمیر کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ ان کا تعلق میرپور آزاد کشمیر سے تھا۔ انہوں نے قانون کی اعلیٰ تعلیم برطانیہ سے حاصل کی۔
بیرسٹر سلطان محمود نے عملی سیاست کا آغاز 1983ء میں کیا اور 1985ء میں پہلی بار آزاد جموں و کشمیر اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے،وہ 9 مرتبہ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، جو آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں نمایاں اعزاز ہے۔
انہوں نے 30 جولائی 1996ء سے 24 جولائی 2001ء تک آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اس دوران انہوں نے انتظامی اصلاحات کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔
بیرسٹر سلطان محمود مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ رہے۔ انہوں نے آزادمسلم کانفرنس کے نام سے سیاسی جماعت قائم کی جس کے بعدوہ پاکستان پیپلزپارٹی آزادکشمیرمیں شامل ہوئے اور اس کے پارٹی صدراور وزیراعظم رہے۔
مرحوم نے اقوام متحدہ، یورپی پارلیمنٹ، امریکa اور برطانیہ سمیت عالمی فورمز پر کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے موٴثر آواز بلند کی اور بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔
مرحوم آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم بھی رہ چکے ہیں اور تحریکِ آزادی کشمیر کی ایک توانا اور مؤثر آواز کے طور پر جانے جاتے تھے۔
مرحوم کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی سیاسی و قومی جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔
شرکائے نماز جنازہ کا کہنا تھا کہ قوم ایک مدبر، نڈر اور مخلص رہنما سے محروم ہو گئی۔
گن کیرج، ریاستی علامت اور بیرسٹر سلطان محمود چوہدری: ایک عہد کی رخصتی
ریاستیں اپنے محسنوں کو صرف لفظوں میں یاد نہیں رکھتیں، وہ علامتوں، رسومات اور تاریخ کے رسمی اشاروں کے ذریعے ان کے مقام کا تعین کرتی ہیں۔ جب کسی شخصیت کا تابوت گن کیرج پر رکھا جاتا ہے تو یہ محض ایک جنازے کی نقل و حرکت نہیں ہوتی بلکہ یہ ریاست کا وہ خاموش مگر طاقتور اعلان ہوتا ہے جو آنے والی نسلوں کو بتاتا ہے کہ یہ فرد عام شہری نہیں تھا، بلکہ قومی شعور کا حصہ تھا۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی آخری رسومات کا گن کیرج کے ساتھ ادا کیا جانا اسی ریاستی اعلان کی ایک واضح مثال ہے۔
پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں گن کیرج کا اعزاز چند ہی شخصیات کو نصیب ہوا ہے۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح، جنرل محمد ضیاء الحق، عبد الستار ایدھی اور محترمہ رتھ فاؤ، یہ وہ نام ہیں جو ریاستی، سماجی اور اخلاقی خدمات کے استعارے بن چکے ہیں۔
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا اس فہرست میں شامل ہونا محض ایک رسمی فیصلہ نہیں بلکہ اس بات کا اعتراف ہے کہ ان کی جدوجہد، فکر اور وابستگی کو ریاست نے قومی سطح پر تسلیم کیا۔
گن کیرج دراصل فوجی روایت سے کہیں بڑھ کر ایک ریاستی علامت ہے۔ توپ والی فوجی گاڑی، قومی سلامی، منظم فوجی دستہ اور مکمل پروٹوکول اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ متوفی کی خدمات کو معمول کے پیمانوں سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ اعزاز ان افراد کو دیا جاتا ہے جنہوں نے ریاست کے تشخص، نظریے یا اخلاقی قدروں کو نئی جہت دی ہو۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا شمار انہی افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے مسئلہ کشمیر کو محض ایک سیاسی نعرے کے طور پر نہیں بلکہ ایک مسلسل قومی ذمہ داری کے طور پر نبھایا۔
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی سیاست شخصیت پرستی سے زیادہ مؤقف پرستی کی سیاست تھی۔ وہ منصب کے محتاج نہیں تھے، بلکہ منصب ان کے مؤقف کا محتاج رہا۔ کشمیر ان کے لیے انتخابی موضوع یا وقتی بیانیہ نہیں تھا بلکہ ایک مستقل فکری وابستگی تھی، جس پر وہ اختلافات، تنقید اور سیاسی تنہائی کے باوجود قائم رہے۔ یہی استقامت کسی بھی سیاسی کردار کو تاریخ میں جگہ دیتی ہے۔
دیکھا جائے تو ان کی آخری سواری ایک علامتی سفر ہے.
یہ لمحہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم ریاستی اعزازات کو محض جذباتی فیصلوں کے بجائے قومی بیانیے کی تشکیل کے تناظر میں دیکھیں۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو دیا گیا یہ اعزاز اس امر کی مہرِ تصدیق ہے کہ ریاست نے انہیں ایک قومی ہیرو اور قومی اثاثہ تسلیم کیا۔ یہ فیصلہ آنے والے محققین اور مورخین کے لیے ایک واضح حوالہ بنے گا کہ کشمیر کے مقدمے میں ان کا کردار محض سیاسی نہیں بلکہ تاریخی تھا۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ جب آج گن کیرج کے پہیے آگے بڑھے تو انہوں نے صرف ایک شخص کو نہیں بلکہ ایک عہد کو رخصت کیا۔ یہ پہیے تاریخ کے صفحے پر وہ سطر لکھ گئے ہیں جسے مٹایا نہیں جا سکتا۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی زندگی اور ان کی آخری رسومات اس بات کی گواہی ہیں کہ قومیں اپنے سچے ترجمانوں کو کبھی فراموش نہیں کرتیں وہ انہیں تاریخ کی علامت بنا دیتی ہیں۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی جموں و کشمیر کے نہیں بلکہ کے طور پر کے ساتھ گن کیرج کے لیے اس بات
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔