32 سالہ خاتون شادی نہ ہونے پر ساتھی کے ہاتھوں قتل، تحقیقات جاری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
اتراکھنڈ کے شہر رشی کیش میں 32 سالہ خاتون کو مبینہ طور پر اس کے ساتھی نے گھر میں گولی مار کر قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب پیش آیا۔
دہرادون کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اجے سنگھ نے بتایا کہ مقتولہ کی شناخت 32 سالہ پریتی راوت کے نام سے ہوئی ہے، جو ایمس اسپتال میں اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے: ڈھاکا: موبائل فون کی اونچی آواز پر جھگڑا، ماں بیٹی قتل، ملزم گرفتار
پولیس کے مطابق پریتی طلاق کے بعد رشی کیش کے شیواجی نگر علاقے میں کرائے کے مکان میں اکیلی رہ رہی تھیں۔ چند سال قبل ان کی ملاقات سریش گپتا سے رشی کیش میں ہوئی تھی، جس کے بعد دونوں کے درمیان تعلق قائم ہو گیا۔
تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ سریش گپتا نے پریتی سے شادی کے لیے 4 ماہ قبل اپنی اہلیہ سے طلاق کے لیے درخواست دائر کی تھی۔ تاہم پریتی کے اہلِ خانہ نے شادی سے پہلے رشی کیش میں گھر خریدنے کی شرط رکھی۔
اس شرط کو پورا کرنے کے لیے سریش گپتا نے ہریدوار کے علاقے لکسر میں اپنی تمام آبائی جائیداد 35 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، مگر رشی کیش میں مناسب گھر نہ ملنے پر دونوں کے درمیان اکثر جھگڑے رہنے لگے۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد پولیس کی بڑی کارروائی: بہارہ کہو میں خاتون قتل کیس کا ملزم گرفتار
ایس ایس پی اجے سنگھ کے مطابق ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ سریش گپتا شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھا، کیونکہ وہ نہ تو اپنی اہلیہ سے طلاق حاصل کر سکا اور نہ ہی جائیداد فروخت کرنے کے باوجود رشی کیش میں گھر خرید پایا، جس کے نتیجے میں اس نے پریتی کو قتل کر دیا۔
پریتی کے اہلِ خانہ کی شکایت پر رشی کیش پولیس اسٹیشن میں سریش گپتا کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 103(1) کے تحت قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیا خواتین قتل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈیا خواتین قتل رشی کیش میں سریش گپتا کے لیے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔