بانی ایم کیو ایم الطاف حسین طبیعت بگڑنے پر اسپتال میں داخل
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
متحدہ قومی موومنٹ یعنی ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کو لندن کے ایک اسپتال میں داخل کیا گیا ہے، جہاں اتوار کی رات ڈاکٹروں کی مشورے پر خون بھی منتقل کیا گیا ہے۔
ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کو اتوار کی شام صحت خراب ہونے کے باعث اسپتال لے جایا گیا، جہاں ابتدائی معائنہ کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں داخل کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: قائد ایم کیوایم الطاف حسین کا سیاسی ناکامی کا اعتراف، کارکنوں کو حلف سے آزاد کردیا
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایم کیو ایم کی جانب سے ایک پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹروں نے انہیں انجیکشن دیا اور جسم میں کمزوری کے پیش نظر ڈرپ شروع کی۔
پارٹی نے مزید کہا کہ ڈاکٹروں نے اسپتال میں ان کا تفصیلی معائنہ کیا ہے اور پیر کو ان کا مکمل چیک اپ کیا جائے گا۔
ایم کیو ایم کے بانی وقائد جناب الطاف حسین کا اتوار کی شب ڈاکٹروں نے لندن کے اسپتال میں طبی معائنہ کیا، انہیں انجیکشن لگایا گیا اور جسم میں نقاہت کے پیش نظر ڈرپ چڑھائی گئی۔کل بروزپیر ڈاکٹروں کی ٹیم جناب الطاف حسین کا تفصیلی معائنہ کرے گی۔ #GetWellSoonAltafBhai
جناب الطا ف حسین… pic.
— MQM (@OfficialMQM) February 1, 2026
1990 کی دہائی کے اوائل میں، الطاف حسین کراچی میں ہونے والے ایک آپریشن کے بعد لندن میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرلی تھی۔
الطاف حسین کو لندن سے پاکستانی سیاست پر اثر انداز ہونے کے لیے جانا جاتا تھا، مئی 2013 میں، انہوں نے ایک متنازعہ تقریر کی جس میں انہوں نے اپنی پارٹی کا عوامی مینڈیٹ قابل قبول نہ ہونے کی صورت میں پاکستان کے دیگر حصوں سے کراچی کو علیحدہ کرنے کا مطالبہ کیا۔
مزید پڑھیں: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی الطاف حسین پر شدید تنقید، عمران فاروق کا قاتل قرار دے دیا
تاہم، پارٹی نے بعد میں وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کا غلط مفہوم نکالا گیا تھا۔
ایم کیو ایم کی آخری تباہی 2016 میں ہوئی جب الطاف حسین نے ایک انتہائی متنازعہ تقریر میں نہ صرف پاکستان کے خلاف نعرے لگائے بلکہ ملک کو ’دنیا کے لیے کینسر‘ قرار دیا۔
اس تقریر کے بعد ایم کیو ایم کے کارکنوں نے کراچی میں اے آر وائی نیوز کے دفتر پر حملہ کیا۔
حکام نے اس تقریر کے بعد کارروائی شروع کی اور ایم کیو ایم کے کراچی ہیڈکوارٹر اور الطاف حسین کی رہائش گاہ عزیز آباد کو سیل کر دیا۔
مزید پڑھیں: ایم کیو ایم پاکستان کی عدالتی کامیابی، الطاف حسین لندن رہائشگاہ سمیت 6جائیدادوں سے محروم
بعد میں الطاف حسین کے اپنے پارٹی رہنماؤں نے ان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے ان کا نام پارٹی کے آئین سے نکال دیا۔
اکتوبر 2019 میں، برطانوی پولیس نے حسین پر ’دہشت گردی کی ترغیب دینے‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں 2019 کے آغاز میں گرفتار کیا گیا تھا، لیکن بعد میں ضمانت پر رہائی مل گئی۔
فروری 2022 میں ایک 12 رکنی جیوری نے الطاف حسین کو دہشتگردی کی ترغیب دینے کے دونوں الزامات سے بری کر دیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئین اسپتال الطاف حسین ایم کیو ایم جلاوطنی خود ساختہ دہشتگرد ڈرپ ضمانت عوامی مینڈیٹ لندن متحدہ قومی موومنٹ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپتال الطاف حسین ایم کیو ایم جلاوطنی خود ساختہ دہشتگرد عوامی مینڈیٹ متحدہ قومی موومنٹ ایم کیو ایم کے الطاف حسین کو ڈاکٹروں نے اسپتال میں کے بعد ایم کی
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔