اردو زبان کے عظیم ادیب انتظار حسین کی آج 10 ویں برسی منائی جا رہی ہے
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
اردو زبان میں ناول، افسانہ، کالم اور تہذیبی شعور کو نئی معنویت دینے والے عظیم ادیب انتظار حسین کی آج 10 ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ ان کی تحریروں میں ہجرت کا کرب، بچھڑتی تہذیب کا نوحہ اور ماضی کی بازگشت نمایاں طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔
انتظار حسین اردو افسانے کا وہ معتبر نام ہیں جنہوں نے روایت اور جدیدیت کے امتزاج سے ایک منفرد ادبی جہان تخلیق کیا، وہ 21 دسمبر 1925ء کو متحدہ ہندوستان کے ضلع میرٹھ کے علاقے دیبائی میں پیدا ہوئے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے شعبہ صحافت کو اپنایا اور قلم کے ذریعے اردو ادب کو ایک نئی سمت عطا کی۔
انتظار حسین نے کم و بیش 130 سے زائد افسانے، کہانیاں، ڈرامے، تراجم اور بے شمار کالم تحریر کیے۔ ان کی شہرہ آفاق تصانیف میں ”بستی“، ”آگے سمندر ہے“، ”شہر افسوس“، ”خالی پنجرہ“ اور ”گلی کوچے“ شامل ہیں۔
انتظار حسین کو جدید اردو افسانہ نگاری کا بانی قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔وہ فیض احمد فیض، سعادت حسن منٹو، ابن انشا، احمد ندیم قاسمی اور احمد فراز جیسے عظیم ادیبوں کے ہم عصر تھے تاہم ان کا اسلوب اور فکری گہرائی انہیں ایک منفرد مقام عطا کرتی ہے۔
ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں ستارہامتیاز، لاہور لٹریری فیسٹیول کا لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ اور 2014ءمیں فرانس کی حکومت کی جانب سے اعلیٰ ترین سول اعزاز سے نوازا گیا۔
2 فروری 2016 کو انتظار حسین مختصر علالت کے بعد لاہور میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات سے اردو ادب کا ایک روشن باب بند ضرور ہوا مگر ان کے الفاظ، ان کی فکر اور ان کی تحریریں آج بھی زندہ ہیں اور آنے والی نسلوں کی رہنمائی کرتی رہیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔