بےضابطگییوں اور نیلامی میں ہیرپھیر کی محکموں کو خود تحقیقات کرنے کا اختیار دے دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی تھری نے احتساب کا عمل تیز کرنے کے لئے سرکاری سطح پر خریداری میں بے ضابطگییوں اور نیلامی میں ہیر پھیر کی محکموں کو خود تحقیقات کرنے کا اختیار دے دیا۔
سرکاری محکمے قانونی طریقہ کار سے انحراف کرنے والے افسران کرنے کے خلاف خود تحقیقات کرنے کے مجاز ہوں گے، سرکاری محکمے دو ہفتوں میں خود انکوائری کرکے مالی بے ضابطگییوں کی تحقیقاتی رپورٹ پبلک اکائونٹس کمیٹی تھری میں پیش کریں گے۔
سرکاری افسران کے بغیر تیاری کے پبلک اکائونٹس کمیٹی تھری میں پیش ہونے پر چئیرمن پی اے سی تھری احمد اقبال نے اظہارِ ناراضگی کیا۔
چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی تھری احمد اقبال نے کہا کہ سرکاری محکموں کے مختلف نوعیت کے بے ترتیب آڈٹ پیرے پی اے سی میں پیش کرنے سے احتساب کا عمل متاثر ہو رہاہے ایسے طرز عمل پر مجھے افسوس ہے ۔ایسا کرنے سے ہم پھر پیچھے چلے جاتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کمیٹی تھری
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔