معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
31 کروڑ تنازع پر اغوائ، دانش متین کیس میں ڈی آئی جی ٹریفک ،پولیس، بااثر شخصیات زیرِ تفتیش
پولیس افسران سے رابطوں کے بعد دانش متین کو واپس کراچی لا کر دفتر کے قریب چھوڑ دیا گیا، ذرائع
( رپورٹ: افتخار چوہدری) ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا بلڈر کے اغوا میں ملوث ہونے کا انکشاف۔ حیدرآباد میں جھوٹے کیس کے معاملے میں سخت کارروائی کے امکانات تفصیلات کے مطابق سندھ پولیس میں اعلیٰ سطح کی تبدیلیاں جاری ہیں، جہاں ڈی آئی جی ٹریفک کراچی سید پیر محمد شاہ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، ان کی جگہ ڈی آئی جی مظہر نواز شیخ کو تعینات کیا گیا ہے، جو اب کراچی کے ٹریفک مینجمنٹ کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ پیر محمد شاہ کو سروسز، جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن ڈیپارٹمنٹ میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔اس کے علاوہ، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے 16 جنوری 2026 کو پیر محمد شاہ کو ایک نوٹس جاری کیا تھا، جس میں حیدرآباد میں ایک طاقتور بلڈر پر جھوٹا کیس درج کرانے کے الزام میں وضاحت طلب کی گئی تھی۔ یہ کیس مبینہ طور پر ایک بااثر شخصیت کی ہدایت پر درج کیا گیا تھا، اور اس میں اختیارات کے ناجائز استعمال اور بدنیتی کے عناصر شامل تھے۔ نوٹس میں کہا گیا تھا کہ مطمئن جواب نہ دینے کی صورت میں محکمہ جاتی کارروائی کی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیر محمد شاہ اس نوٹس کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے، جس کے بعد 30 جنوری 2026 کو چیف سیکریٹری سندھ کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کر کے انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔اس معاملے کی مزید تفصیلات کے مطابق، حیدرآباد پولیس نے ایک بااثر شخصیت کی شکایت پر طاقتور بلڈر کو کراچی کے پوش علاقے سے اٹھا کر گمشدہ کر دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق، بلڈر کو نور ی آباد میں کچھ دیر کے لیے رکھا گیا، اور پھر اسے واپس اس کے گھر کے دروازے پر چھوڑ دیا گیا۔ یہ واقعہ مبینہ طور پر جھوٹے کیس کی بنیاد پر ہوا، جس میں ڈی آئی جی پیر محمد شاہ کی مداخلت کا الزام ہے۔ اس کیس کی ایف آئی آر نمبر 506؍2025 ہے، جو اختیارات کے غلط استعمال پر مبنی ہے۔سندھ پولیس کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف پیر محمد شاہ تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اگلے چند دنوں میں مزید سخت فیصلے متوقع ہیں۔ ان میں ڈی آئی جی حیدرآباد، ایس ایس پی حیدرآباد، اور ایس ایچ او نور ی آباد کو بھی عہدوں سے ہٹانے کے قوی امکانات ہیں۔ یہ کارروائی پولیس افسران کی جواب دہی کو یقینی بنانے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کو روکنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ سندھ حکومت اور پولیس کی جانب سے یہ اقدامات شہریوں کی حفاظت اور عدل و انصاف کے نظام کو مضبوط کرنے کی طرف ایک اہم قدم قرار دیے جا رہے ہیں۔ تاہم، متاثرہ افسران کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پیر محمد شاہ کو ڈی ا ئی جی کے مطابق دیا گیا
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔