ایف آئی اے کی تاریخی ریکوری، 47 ارب کا نقصان پہنچانے والی پیٹرولیم کمپنی نے ادائیگیاں شروع کر دیں
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی میں ایف آئی اے کی تاریخ کی سب سے بڑی ریکوری کے معاملے میں پیش رفت سامنے آ گئی ہے، جہاں قومی خزانے کو 47 ارب روپے کا نقصان پہنچانے والی پیٹرولیم کمپنی نے رقم کی ادائیگی شروع کر دی ہے۔
کراچی ایف آئی اے کے کارپوریٹ کرائم سرکل کے سربراہ ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز مہر نے اپنی زیر نگرانی جاری تحقیقات سے متعلق مفصل رپورٹ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں جمع کرا دی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پیٹرولیم کمپنی نے 2019 سے 2022 کے دوران پیٹرول کی فروخت پر عائد لیوی کی رقم مبینہ فراڈ کے ذریعے حکومتی خزانے میں جمع نہیں کروائی، جس سے نقصان 47 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس فراڈ کا مقدمہ وزارتِ توانائی و پیٹرولیم کے ڈپٹی ڈائریکٹر اشفاق احمد کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا، جبکہ کیس میں مجموعی طور پر 13 افراد کو نامزد کیا گیا۔ نامزد ملزمان میں کمپنی کے مالکان، دو خواتین اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ارکان شامل ہیں، جن میں کے الیکٹرک کے سابق ایم ڈی تابش گوہر کا نام بھی شامل ہے۔
تحقیقات کا عمل دو برس تک مختلف تفتیشی افسران کے پاس رہا، جس کے بعد بالآخر کمپنی نے 47 ارب روپے حکومتی خزانے میں جمع کرانے پر آمادگی ظاہر کی۔ کمپنی کی جانب سے ایک ارب روپے کی پہلی قسط نقد ادا کر دی گئی ہے جبکہ بقیہ 46 ارب 40 کروڑ روپے کے پوسٹ ڈیٹڈ چیکس اور غیر مشروط و اٹل بینک گارنٹی بھی جمع کرا دی گئی ہے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز مہر نے تصدیق کی ہے کہ پیٹرولیم کمپنی سے متعلق یہ رپورٹ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں باقاعدہ طور پر جمع کرا دی گئی ہے اور معاملے پر قانونی کارروائی جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پیٹرولیم کمپنی ارب روپے گئی ہے
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔