اجے بنگا کا وفد کے ساتھ خانپور ہزارہ کا دورہ، آثار قدیمہ دیکھے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
خانپور ہزارہ(نیوز ڈیسک)ورلڈ بینک کے صدر اجے پال سنگھ بنگا نے اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ خانپور ہزارہ کا دورہ کیا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور دیگر حکومتی ارکان بھی ان کے ہمراہ تھے، وفد نے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل آثارِ قدیمہ جولیاں کا دورہ کیا، اس موقع پر سیکرٹری محکمہ آرکیالوجی عبدالصمد، کمشنر ہزارہ اور دیگر انتظامی افسران نے وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔
دورے کے دوران معزز مہمانوں کو ہزاروں سال قدیم بدھ مت تہذیب اور گندھارا ورثے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ یادگاری تحائف بھی پیش کیے گئے، وفد نے شاندار استقبال اور مہمان نوازی پر حکومتِ پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
ورلڈ بینک کے صدر اجے پال سنگھ بنگا نے قیمتی اور نایاب گندھارا ورثے کی بہترین دیکھ بھال پر محکمہ آثارِ قدیمہ کے کردار کو سراہا اور اقدامات کی تعریف کی۔
واضح رہے کہ وفد نے گزشتہ شام بھی خانپور اور گرد و نواح میں واقع تاریخی مقامات کا دورہ کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کا دورہ
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔