وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر قازقستان کے صدر کل اسلام آباد پہنچیں گے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف کل پہلے 2 روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچیں گے۔
وزارت خارجہ کے مطابق قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف 3 اور 4 فروری 2026ء کو پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ کریں گے، ان کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا وفد بھی ہوگا جس میں کابینہ کے سینئر وزرا اور اعلیٰ حکام شامل ہوں گے۔
دورے کے دوران قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف صدرِ پاکستان آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے، ان کی وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ بھی ملاقات ہوگی جب کہ مہمان صدر کا پاکستان قازقستان بزنس فورم سے خطاب بھی متوقع ہے۔
یہ دورہ دونوں ممالک کو دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لینے، تعاون کے نئے مواقع پر تبادلہ خیال کرنے، بالخصوص تجارت، لاجسٹکس، علاقائی و عوامی روابط کے شعبوں میں پیش رفت کے امکانات پر گفتگو کا موقع فراہم کرے گا، اس کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی فورمز پر تعاون پر بھی بات چیت متوقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: قازقستان کے صدر
پڑھیں:
علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔