WE News:
2026-07-24@01:20:33 GMT

حکومتی اشتہارات: میڈیا پر اثرات اور صحافت کے اخلاقی چیلنجز

اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT

حکومتی اشتہارات: میڈیا پر اثرات اور صحافت کے اخلاقی چیلنجز

پاکستان میں سرکاری اشتہارات ہمیشہ سے میڈیا اور حکومت کے درمیان تعلقات کا ایک اہم پہلو رہے ہیں۔ یہ اشتہارات نہ صرف ذرائع آمدن ہیں، بلکہ حکومتوں کے لیے ’سافٹ پاور‘ کا ایک مؤثر ہتھیار بھی۔

سوال یہ ہے کہ یہ نظام کس حد تک شفاف ہے اور اس سے صحافت کے اصول و اخلاقیات پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

ڈان میڈیا گروپ کے مرکزی اخبار کو دیے جانے والے سرکاری اشتہارات محدود کیے جانے کے بعد اب چند ماہ قبل حکومت کی جانب سے ڈان میڈیا گروپ کے ٹی وی اور ریڈیو کو بھی سرکاری اشتہارات کی فراہمی پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

اس حوالے سے  کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈان پاکستان کے معتبر ترین میڈیا اداروں میں شامل ہے اور سرکاری اشتہارات کی بندش ادارے کو مالی طور پر مفلوج کرنے کے مترادف ہے۔

سی پی این ای کے صدر اور سیکرٹری جنرل کے حوالے سے جاری بیان میں یاد دلایا گیا کہ ڈان میڈیا گروپ قیامِ پاکستان سے اب تک غیر جانبدار صحافت کے ذریعے عوام کو معلومات فراہم کرتا آ رہا ہے۔

اشتہارات کی غیر اعلانیہ بندش پر آل پاکستان نیوزپیپرز سوسائٹی نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔ تنظیم نے کہا کہ وہ اس فیصلے پر ’شدید مایوس‘ ہے۔

اے پی این ایس کی جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ گزشتہ 13 ماہ سے روزنامہ ڈان کو سرکاری اشتہارات کی کٹوتی کا سامنا تھا، مگر اب ڈان میڈیا کے زیرِ ملکیت نیوز چینل اور ریڈیو چینل کو بھی سرکاری اشتہارات سے محروم کر دیا گیا ہے، جو نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ آزادیٔ اظہار پر حملہ بھی ہے۔

پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن  نے بھی اشتہاری پابندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم نے ہمیشہ اشتہارات کو میڈیا اور آزادیٔ اظہار پر کنٹرول کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی مخالفت کی ہے۔

حکومتی اشتہارات کسی بھی ملک میں میڈیا کے لیے آمدن کا ایک اہم ذریعہ ہوتے ہیں اور عوام تک سرکاری معلومات پہنچانے ا بنیادی ذریعہ بھی سمجھے جاتے ہیں۔

پاکستان میں سرکاری اشتہارات کی تقسیم ایک باقاعدہ طریقۂ کار کے تحت کی جاتی ہے، جس میں وفاقی سطح پر پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) اور صوبائی سطح پر ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنز (ڈی جی پی آر) مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ ادارے اشتہارات کی منظوری، میڈیا اداروں کے انتخاب، نرخوں کے تعین اور ادائیگی کے عمل کی نگرانی کرتے ہیں، تاہم اس نظام پر شفافیت، تاخیر سے ادائیگی اور اشتہارات کی غیر منصفانہ تقسیم جیسے سوالات بھی اٹھتے رہے ہیں، جو نہ صرف میڈیا کی معاشی آزادی بلکہ عوام کے حقِ معلومات پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

سینئر صحافی اعزاز سید، جو جیو نیوز سے وابستہ ہیں، اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ حکومتیں اشتہارات کے ذریعے دباؤ ڈالتی ہیں۔ بڑے میڈیا ہاؤسز اپنی وسیع سرکولیشن اور ویورشپ کے باعث کسی حد تک اس دباؤ کا مقابلہ کر لیتے ہیں، لیکن چھوٹے ادارے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ بعض اوقات بڑے ادارے بھی ہار مان لیتے ہیں کیونکہ اشتہارات کا ’کیک‘ اتنا بڑا ہوتا ہے کہ اسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہتا۔

اعزاز سید کے مطابق یہ معاملہ بنیادی طور پر ایک مسئلہ ہے جس کی کوئی اخلاقی بنیاد نہیں۔ ایک طرف ریاست بیرونی قرضوں کی متلاشی ہے، اور دوسری طرف وہی ریاست سرکاری اشتہارات کے ذریعے میڈیا کو نوازتی ہے۔ دنیا بھر میں اس مسئلے کا حل تسلیم شدہ ہے کہ حکومت کاروبار کے لین دین میں براہِ راست شامل نہ ہو، بلکہ صرف پالیسی سازی اور ریفارمز تک محدود رہے۔

ایک نجی نیوز چینل کے مالک نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، انکشاف کیا کہ اشتہارات کی تقسیم ہمیشہ حکومتی دباؤ سے مشروط رہی ہے۔

ان کے مطابق اگر ادارہ حکومت کی خواہشات کے مطابق خبریں شائع نہ کرے تو اشتہارات بند کر دیے جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ اشتہارات کے ریٹس کا تعین اور ادائیگی کا عمل بھی غیر شفاف ہے۔ مخصوص میڈیا ہاؤسز کو زیادہ ریٹس ملتے ہیں جبکہ دیگر کو کم معاوضے پر قناعت کرنا پڑتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلز کی منظوری اور ادائیگی میں کئی ماہ لگ جاتے ہیں جس سے ادارے مالی مشکلات میں گھر جاتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ایک آزاد کمیشن ہونا چاہیے جو اشتہارات کی منصفانہ تقسیم اور ریٹس کے تعین کو یقینی بنائے، جبکہ ادائیگی کا عمل تیز اور شفاف بنایا جائے تاکہ ادارے آزاد صحافت جاری رکھ سکیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کے ہم نوا اداروں کو کبھی ادائیگیوں کا مسئلہ نہیں ہوتا، چاہے وہ اپنے ورکرز کو تنخواہیں دیں یا نہ دیں۔ اس کے برعکس ’ڈمی اخبارات‘ بغیر کسی حقیقی سرمایہ کاری کے اشتہارات کو اپنے حصے میں لے لیتے ہیں، جو ایک سنگین چیلنج ہے۔

سینئر صحافی مائرہ عمران اس مسئلے کو ایک مختلف زاویے سے دیکھتی ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو سرکاری اشتہارات کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر ریاست اپنی کارکردگی دکھانا چاہتی ہے تو سوشل میڈیا، ویب سائٹس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مواد اپ لوڈ کیا جا سکتا ہے، جہاں عوامی رائے اور تاثرات بھی براہِ راست ملتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سیاسی اشتہارات سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہیں۔ حکومت کے وسائل کو اس مقصد پر خرچ کرنا، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز بھی محدود ہوں، محض تعیش ہے۔ البتہ میڈیا کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو سرکاری اشتہارات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ پاکستان میں میڈیا کی آمدنی کا بڑا حصہ اشتہارات پر انحصار کرتا ہے۔ اشتہارات کی بندش براہِ راست تنخواہوں اور روزگار پر اثر ڈالتی ہے۔

تاہم مائرہ عمران کے مطابق یہ دلیل بھی ناقص ہے کہ صرف اشتہارات کی کمی کی وجہ سے ادارے اپنے ملازمین کو تنخواہیں نہیں دیتے۔

پاکستان میں اس وقت 13 ہزار سے زائد اخبارات رجسٹرڈ ہیں، جب کہ دنیا بھر میں کئی بڑے اخبارات بند ہو چکے ہیں۔ ان میں سے کئی ’غیر فعال‘ یا صرف رسمی طور پر چھپنے والے اخبارات بھی اشتہارات کے بڑے حصے سے مستفید ہوتے ہیں۔ یہ شفافیت کے اصولوں کے بالکل خلاف ہے۔

وزارت اطلاعات کے مطابق زیادہ اشاعت والے اخبارات کو زیادہ اشتہارات دیے جانے کا اصول موجود ہے، لیکن یہ بھی غیر منصفانہ ہے کیونکہ بڑے ادارے نجی اشتہارات سے بھی کماتے ہیں۔

دوسری جانب چھوٹے ادارے اس سہولت سے محروم رہتے ہیں۔ ایک مثال پنجاب حکومت کی ہے، جس نے اپنی ایک سالہ کارکردگی کے موقع پر 60 صفحات پر مشتمل اشتہارات مختلف اخبارات میں شائع کرائے۔ یہ اشہارات بظاہر اخبار کا حصہ یا میگزین لگتے تھے۔ اس پر بھی اخبارات کے مالکان نے ’بندر بانٹ‘ کے الزامات عائد کیے۔

ملک راشد کا کہنا ہے کہ انکا ٹی وی چینل ان میڈیا اداروں میں سے ایک ہے جو صحافیوں کو خبروں کے ساتھ ساتھ اشتہارات لانے کی ذمہ داری بھی سونپی جاتی ہے، جہاں ان کی کارکردگی کا اندازہ صحافتی معیار کے بجائے حاصل کیے گئے اشتہارات سے لگایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس غیر رسمی نظام میں بعض رپورٹرز کو اشتہاری رقم میں حصہ یا دیگر مراعات دی جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں سرکاری یا بااثر اداروں پر تنقیدی رپورٹنگ متاثر ہوتی ہے۔

ان کے مطابق یہ عمل ادارتی آزادی کو کمزور کرتا ہے اور صحافیوں کو خود ساختہ سنسرشپ پر مجبور کر دیتا ہے، جس کا براہِ راست اثر عوام کو ملنے والی آزاد اور غیر جانبدار معلومات پر پڑتا ہے۔

ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کے حوالے سے حکومتی اشتہاری پالیسی اب تک واضح اور جامع شکل اختیار نہیں کر سکی۔ اگرچہ حکومت عوامی آگاہی کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے، تاہم سرکاری اشتہارات کی بڑی مقدار اب بھی روایتی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تک محدود ہے۔

پاکستان میں ڈیجیٹل میڈیا کو سرکاری اشتہارات کے لیے عموماً پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) یا صوبائی ڈی جی پی آر کے ذریعے محدود پیمانے پر شامل کیا جاتا ہے، جہاں ویب سائٹس کی رجسٹریشن، مواد کی نوعیت اور رسائی کے اعداد و شمار کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق واضح معیار، شفاف تقسیم اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے باضابطہ پالیسی کے فقدان نے آزاد ڈیجیٹل صحافت کو مالی طور پر غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے، جس کے اثرات عوام تک معلومات کی ترسیل پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔

ڈیجیٹل میڈیا نے اس حکومتی کنٹرول کو کسی حد تک محدود کیا ہے۔ آن لائن اشتہارات میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے برانڈز براہِ راست مواد کے مطابق اپنی جگہ پاتے ہیں، یوں حکومت کا کردار کم ہو جاتا ہے۔ لیکن جب صحافی خود اشتہارات کا انتظام سنبھالتے ہیں تو ان کی رپورٹنگ اور معلومات جمع کرنے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مالیات کو صحافتی کام سے الگ رکھنا بنیادی اصول سمجھا جاتا ہے تاکہ خبر دباؤ یا جانبداری سے پاک ہو۔ اس کے باوجود یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اشتہارات کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے کئی اداروں میں صحافیوں کی تنخواہوں میں تاخیر کی جاتی ہے، جو ایک نیا دباؤ پیدا کرتی ہے

سوشل میڈیا کو بھی اشتہاری نیٹ ورک کا حصہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگرچہ اس میں پیش رفت سست ہے، مگر مستقبل میں یہ ایک بڑا متبادل بن سکتا ہے۔ تاہم، جب تک شفافیت، میرٹ اور موثر مانیٹرنگ کا نظام قائم نہیں ہوگا، حکومتی اشتہارات کا موجودہ بحران ختم نہیں ہو سکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سرکاری اشتہارات کی پاکستان میں کہ اشتہارات اشتہارات کے اشتہارات کو ان کے مطابق سوشل میڈیا ڈان میڈیا جاتے ہیں کے ذریعے میڈیا کے کہ حکومت ان میڈیا ہوتے ہیں نہیں ہو جاتا ہے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ  نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق  بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی  کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔  بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی   ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع  ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

 بنگلہ دیش کے  میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی  ویڈیو قرار دیا، لیکن جب  تنقید کرنے والے  خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک  ادارے  نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔  نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ  ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو   میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر  تنقید کافی برھ گئی تو    جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔  غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے  اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

 نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور  ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ  شوہر کے مؤقف کی  تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی  قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

 بنگلہ دیشی میڈیا  میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم  سے متعلق  قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز  پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی  کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔ 

دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل

 بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔  غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو  دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔

 نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ  ڈرائیور، دوسری  کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا،  ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور  ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔  نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔  لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر  میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔  

پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی

  اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری