انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت لیکن بھارت کے خلاف میچ نہ کھلنے کے اعلان پر بیان جاری کردیا۔

آئی سی سی کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والی میڈیا ریلیز میں بتایا گیا کہ آئی سی سی اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے باضابطہ آگہی کا منتظر ہے۔ جزوی شرکت کے موقف کی عالمی اسپورٹنگ ایونٹ کے بنیادی اصول کے ساتھ ہم آہنگی بہت مشکل ہے جس میں تمام ٹیمیں برابری کی بنیاد پر مقابلہ کرتی ہیں۔

میڈیا ریلیز میں کہا گیا کہ آئی سی سی ٹورنامنٹس ساکھ، مسابقت اور برابری پر مبنی ہوتے ہیں جزوی شرکت کھیل کی ساکھ کو مجروح کرتی ہے۔

مزید پڑھیں

پاکستان کا بھارت سے نہ کھیلنے کا فیصلہ، بھارتی میڈیا آئی سی سی کو نئے راستے دکھانے لگا

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: پاکستان بھارت کیخلاف میچ کیوں نہیں کھیلے گا؟ وجوہات سامنے آ گئیں

آئی سی سی قومی پالیسی میں حکومتوں کے کردار کا احترام کرتا ہے، لیکن یہ فیصلہ عالمی سطح پر کھیل حق میں نہیں۔

میڈیا ریلیز میں مزید کہا گیا کہ آئی سی سی پُر امید ہے کہ پی سی بی اپنے ملک میں گہرے اور طویل مدتی اثرات سے متعلق سوچے گا۔

آئی سی سی کی ترجیح ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کو کامیابی کے ساتھ منعقد کرانا ہے جو تمام ممبران بشمول پی سی بی کی بھی ذمہ داری ہے۔ یہ توقع کی جاتی ہے کہ پی سی بی تمام اسٹیک ہولڈرز کے مفادات کے تحفظ کے لیے کوئی باہمی قابلِ قبول حل تلاش کرے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پی سی بی

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش