ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: میچ کے بائیکاٹ پر آئی سی سی کا قانون کیا کہتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
حکومت پاکستان کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں قومی ٹیم کے بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستانی ٹیم کو میچ کا بائیکاٹ کرنے پر نہ صرف 2 قیمتی پوائنٹس سے ہاتھ دھونا پڑے گا بلکہ نیٹ رن ریٹ بھی متاثر ہوگا۔
پاکستان کے میچ نہ کھیلنے کی صورت میں بھارت کو بیٹھے بٹھائے 2 پوائنٹس بھی حاصل ہوجائیں گے اور نیٹ رن ریٹ بھی برقرار رہے گا۔
آئی سی سی کے قانون کی شق 16.
یعنی یوں سمجھا جائے گا پاکستان نے پورے 20 اوورز بیٹنگ کی اور کوئی رن نہیں بنایا، جس کی وجہ سے پاکستان کے نیٹ رن ریٹ پر کافی منفی اثر پڑے گا۔
واضح رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا آغاز 7 فروری سے ہوگا۔
پاکستان گروپ اے میں بھارت، نمیبیا، نیدرلینڈز اور امریکا کے ساتھ موجود ہے۔
پاکستان اپنا پہلا میچ 7 فروری کو نیدرلینڈز کے خلاف کھیلے گا۔ دوسرا میچ 10 فروری کو امریکا اور چوتھا میچ 18 فروری کو نمیبیا کے خلاف کھیلے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نیٹ رن ریٹ
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔