پاکستان سے جنگ میں شکست کے بعد بھارت نے دفاعی بجٹ میں بڑا اضافہ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
نئی دہلی: بھارت نے پاکستان کے ساتھ مئی میں ہونے والی فوجی کشیدگی کے بعد اپنے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔
بھارتی وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن نے مالی سال 2026-27 کے لیے مرکزی بجٹ پیش کرتے ہوئے دفاع کے لیے 85 ارب 40 کروڑ ڈالر مختص کیے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
لوک سبھا میں پیش کیے گئے بجٹ کے مطابق دفاعی اخراجات میں اضافے کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کا حصول، ہتھیاروں اور عسکری سازوسامان کی خریداری، اور دفاعی نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ بھارتی وزارتِ دفاع کے مطابق اس بجٹ کے ذریعے خریداری کے عمل کو آسان بنانے اور وسائل کے بہتر استعمال پر بھی توجہ دی جائے گی۔
مزید پڑھیںایپسٹین فائلز میں نریندر مودی کا نام بھی آگیا، بھارت میں سیاسی ہلچل
مودی سرکار کی ناقص کارکردگی؛ کولکتہ میں 21 افراد جل کر راکھ بن گئے
بجٹ دستاویزات کے مطابق ہتھیاروں اور دفاعی آلات کی خریداری کے لیے مختص رقم میں 21.
یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب گزشتہ سال مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی تنازع سامنے آیا تھا۔ یہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں حملے کے بعد پاکستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جسے اس نے ’آپریشن سندور‘ کا نام دیا۔
بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے دفاعی بجٹ میں اضافے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے بھارت کی دفاعی صلاحیتوں میں مزید بہتری آئے گی۔ تاہم دفاعی ماہرین کی رائے اس حوالے سے مختلف ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث 15 فیصد اضافہ عملی طور پر محدود اثر رکھتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔