معاہدہ نہ ہوا تو حقیقت سامنے آ جائے گی، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امید ہے ہم جلد معاہدے پر پہنچ جائیں گے، اگر معاہدہ نہیں ہوتا تو پھر ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ خامنہ ای نے ٹھیک کہا تھا یا نہیں۔
فلوریڈا میں میڈیا سے گفتگو میں آیت اللّٰہ خامنہ ای کے بیان پر صدر ٹرمپ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ خامنہ ای علاقائی جنگ کی بات کیوں نہ کریں گے، ظاہر ہے وہ ایسا کہیں گے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہاں ہمارے دنیا کے سب سے بڑے اور طاقتور بحری جہاز موجود ہیں جو چند دنوں میں بالکل قریب ہوں گے۔
واضح رہے کہ ایران کے سپر یم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکا کا ایران پر حملہ پورے خطے کا تنازع بن جائے گا۔
ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ امریکا نے جنگ شروع کی تو اس بار یہ علاقائی جنگ بن جائے گی، اہل ایران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: خامنہ ای
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔